جنون تیرے عشق کاepi 11

 

"Junoon tery ishaq ka" urdu Novel written by Abeeha Malik


Episode 11


جنون تیرے عشق کا


#love story


#AbeehaMalikBoldRomanticNovel


گیارویں قسط۔۔۔۔


آج اتنی دیر سے کیوں جاگے شاہ زیب آفس نہیں جانا تھا کیا۔۔۔۔


نہیں ماما آج مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے ۔۔۔


کیا ضروری کام بیٹا۔۔۔۔۔


ہے نا ماما بہت ضروری یہ سمجھ لیں آپ کے بیٹے کی زندگی اور موت کا سوال۔۔۔۔


کیا عجیب وغریب باتیں کر رہے ہو شاہ زیب ۔۔۔


مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔۔۔


ماما وقت آنے پر سب سمجھا دوں گا آپ کو ابھی میں چلتا ہوں شاہ زیب کہہ کر چلا گیا۔۔۔۔


💕💕💕


آج کہاں جا رہی نمبرہ نے عریشہ سے پوچھا۔۔۔


پتا نہیں نمبرہ شاہ زیب نے کہا تھا 10 بجے ریڈی رہنا کہیں جانا ہے ۔۔۔


اوئے ہوئے پہلی ڈیٹ نمبرہ تنگ کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔


عریشہ مسکرا دی۔۔۔۔


اچھا دس بجنے والے میں باہر جاتی ہوں ۔۔۔۔


اوئے میڈم یہ اتنا تیار ہو کر کہاں جا رہی ہو شائستہ بیگم بیگم عریشہ کو تیار دیکھ کر کہا۔۔۔


وہ میں اس عریشہ کچھ بولتی نمبرہ کی آواز آئی ارے عریشہ تم ابھی تک یونیورسٹی گئی نہیں یار بہت ضروری نوٹس ہیں نا میرے لا دو جلدی سے میرے سر میں درد ورنہ میں خود چلی جاتی۔۔۔۔


ہاں جارہی ہوں۔۔۔۔


عریشہ نے مسکرا کر نمبرہ کی طرف دیکھا۔۔۔


اور ہاں جلدی آ جانا گھر کے کام سارے پڑے ہیں ۔۔۔۔ شائستہ بیگم بولیں۔۔۔


جی ماما میں آ کر کر دوں گی عریشہ بولی۔۔۔۔


💕💕💕


جلدی آؤ میں باہر کھڑا ہوں۔۔۔۔


شاہ زیب کا میسج پڑھ کر عریشہ فوراً دروازے کی طرف گئی اور گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔


شاہ زیب نے بنا کچھ بولے گاڑی سٹارٹ کر دی۔۔۔


شاہ زیب ہم کہاں جا رہے ہیں ۔۔۔۔


ابھی پتا چل جائے گا ہم کہاں جا رہے ہیں شاہ زیب عریشہ کو دیکھے بغیر بولا


شاہ زیب آپ نے بتایا نہیں انکل نے کیا کہا۔۔۔۔


شاہ زیب عریشہ کی ہر بات کو خاموشی سے سنتا رہا اور کوئی جواب نہ دیا


شاہ زیب نے گاڑی کورٹ کے باہر روکی۔۔۔۔


شاہ زیب ہم یہاں کیوں آئے ہیں ۔۔۔۔ عریشہ نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔۔


شاہ زیب نے ایک لمبا سانس لیا اور عریشہ کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔۔


عریشہ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں اور بچپن سے کرتا ہوں اگر میں اپنی اس محبت کو عشق کا نام دوں تو غلط نہیں ۔۔۔۔


جانتی ہوں ۔۔۔۔


عریشہ کیا تم مجھ سے محبت کرتی ہو۔۔۔


عریشہ نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔


عریشہ میں نے بابا سے بات کی تھى لیکن۔۔۔۔۔


لیکن کیا شاہ زیب ۔۔۔۔


لیکن وہ کبھی نہیں مانیں گے ہماری شادی کے لیے۔۔۔۔


شاہ زیب کی بات پر عریشہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔۔۔۔


عریشہ رو نہیں یار میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔


لیکن انکل نہیں مانیں گے۔۔۔۔


میں تم سے ابھی اور اسی وقت شادی کروں گا۔۔۔۔۔


💕💕💕


شاہ زیب یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ 


مجھ پر بھروسہ ہے ؟؟


ہاں لیکن ۔۔۔۔


لیکن ویکن کچھ نہیں میں جو کر رہا ہوں سوچ سمجھ کر کر رہا ہوں۔۔۔۔۔


چلو اب اندر چلو۔۔۔۔


شاہ زیب نے گاڑی سے نکل کر عریشہ کی طرف سے دروازہ کھولا


عریشہ بھی کچھ سوچ کر باہر آ گئی ۔۔۔۔


شاہ زیب ایک بار پھر سوچ لیں۔۔۔۔


عریشہ اب میرے پاس سوچنے کے لیے وقت نہیں میرے پاس دو ہی راستے یا تم سے ابھی شادی کروں یا ہمیشہ کے لیے بھول جاؤں اور میں تمہیں نہیں بھول سکتا۔۔۔۔


کیا تم میرا ساتھ دو گی شاہ زیب نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔۔


عریشہ نے مسکرا کر شاہ زیب کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔۔


💕💕💕


مسٹر شاہ زیب آپ کی کال آئی تھى میں نے نکاح کے کاغزات ریڈی کر لیے تھے۔۔۔۔


شاہ زیب نے کچھ گواہوں کی موجودگی میں عریشہ سے شادی کر لی۔۔۔۔


چلو اب چلیں شاہ زیب عریشہ کو لے کر گاڑی میں آ گیا۔۔۔


شاہ زیب اب کیا ہو گا عریشہ فکر مندی سے بولی۔۔۔


💕💕💕


اب ہم تمہارے گھر چلیں گے۔۔۔۔


نمبرہ دروازہ کھولو شائستہ بیگم بولیں ۔۔۔


ارے شاہ زیب اور عریشہ آ گئے تم دونوں کیسی رہی پہلی ڈیٹ۔۔۔


شاہ زیب بس مسکرا دیا۔۔۔۔


ارے شاہ زیب بیٹا تم خالد صاحب شاہ زیب کو دیکھ کر بولے۔۔۔۔


انکل میں آپ سے ایک بات کرنے آیا ہوں ۔۔۔۔


ہاں بیٹا بولو۔۔۔۔


انکل مجھے امید ہے آپ میری بات ضرور سمجھیں گے ۔۔۔


کیا بات ہے بیٹا اور عریشہ تمہارے ساتھ ۔۔۔


انکل آج میں نے آپ کی اجازت کے بغیر آپ کی ایک قیمتی چیز کو اپنا بنا لیا ہے ۔۔۔۔


کیا مطلب شاہ زیب ۔۔۔


انکل میں نے آپ سے کہا تھا نا کہ میں عریشہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں اور آپ بھی یہی چاہتے ہیں لیکن میرے بابا کی وجہ سے خاموش تھے ۔۔۔


ہاں بیٹا۔۔۔


انکل میں نے بابا سے بات کی تھى ۔۔۔ وہ نہیں مانے۔۔۔۔ اس لیے میں نے آج عریشہ سے نکاح کر لیا ہے ۔۔۔۔


شاہ زیب یہ کیا بول رہے ہو خالد صاحب حیرت سے بولے۔۔۔۔


سب کے منہ حیرت سے کھل گئے ۔۔۔۔


اچھا تو یہ توں یونیورسٹی جارہی تھی بےغیرت شائستہ بیگم عریشہ کے بالوں کو کھینچتے ہوئے بولیں۔۔۔


انٹی چھوڑیں عریشہ کو یہ تو جانتی بھی نہیں تھى میں اس کو کہاں لے کر جا رہا۔۔۔۔


انکل آپ سمجھیں مجھے میں مجبور تھا میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔


💕💕💕


میں سمجھتا ہوں تمہیں شاہ زیب اور کوئی ملال بھی نہیں مجھے جو تم نے کیا لیکن تمہارے گھر والے۔۔۔۔


انکل ابھی کچھ دن تک میں گھر نہیں بتاؤں گا لیکن میں وعدہ کرتا ہوں عریشہ کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑوں گا


مجھے تم پر پورا بھروسہ ہے بیٹا۔۔۔۔


اور میں نے الله کو حاضر رکھ کر اپنی بیٹی تمہارے حوالے کی۔۔۔۔


خالد صاحب نے عریشہ کا ہاتھ شاہ زیب کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا


اور ہاں یہ گند کی پوٹلی اب اس گھر میں نہیں رہے گی لے کر جاؤ اسے اپنے ساتھ میری اپنی بھی بیٹیاں ہیں انکے کردار میں گندے نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔۔


ماما یہ کیا بول رہی ہیں نمبرہ بولی


تم چپ کرو نمبرہ ہر وقت اسکی طرف داری۔۔۔


آپ فکر نہ کریں شائستہ انٹی میں اسے آپ جیسی زہریلی عورت کے پاس چھوڑنے والا بھی نہیں ۔۔۔۔۔ شاہ زیب بولا

Comments

Popular posts from this blog

جنون تیرے عشق کاepi13

زندگی-کا-عجب موڑ episode 1 and 2