جنون تیرے عشق کاepi13
"Junoon tery ishaq ka" urdu Novel written by Abeeha Malik
Episode 13
جنون تیرے عشق کا
#love story
#AbeehaMalikBoldRomanticNovel
تیرویں قسط۔۔۔۔
شاہ زیب یہ کونسا وقت ہے گھر آنے کا اور آج آفس کیوں نہیں گئے ۔۔۔۔
فرید صاحب نے کہا۔۔۔
بابا مجھے بہت اہم کام کرنا تھا ۔۔۔
ایسا کونسا ضروری کام تھا جو تمہیں بزنس سے بھی زیادہ عزیز تھا ۔۔۔
اگر میں آپ کو بتاؤں گا تو میں جانتا ہوں کو سولڈ ریکشن ہو گا آپ کا اور میں ہر بات کے لیے خود کو تیار کر کے آیا ہوں۔۔۔۔
یہ بھی جانتا ہوں شاید یہ بات سننے کے بعد آپ میری شکل بھی دیکھنا نہ چاہیں۔۔۔۔
یہ کیا بول رہے ہو شاہ زیب سیدھا سیدھا بولو کیا بات ہے کیا ہوا ہے ۔۔۔
بابا میں نے آپ سے بات کی تھى کہ مجھے عریشہ سے شادی کرنی ہے ۔۔۔۔
تم پھر شروع ہو گئے ایک بار بتا دیا نا کہ وہ تمہاری بیوی اور اس گھر کی بہو کبھی نہیں بنے گی۔۔۔
آپ کے چاہنے نہ چاہنے سے اب کچھ نہیں ہو سکتا بابا۔۔۔
کیا مطلب ہے تمہارا اس بات سے ۔۔۔۔
بابا میں نے ۔۔۔۔۔شاہ زیب اتنا بول کر چپ کر گیا۔۔۔
کیا میں نے بولو۔۔۔۔
ماریہ بیگم بھی پریشانی سے کھڑی تھى ۔۔۔
بولو بھی فرید صاحب غصے سے بولے۔۔۔
بابا میں نے عریشہ سے نکاح کر لیا ہے ۔۔۔۔
کیا ۔۔۔۔۔۔ کیا کہا ہے تم نے فرید صاحب کو اپنے کانوں پر یقین نہ ہوا۔۔۔
میں سچ کہہ رہا ہوں میں نے اس سے نکاح کر لیا ہے ۔۔۔۔
شاہ زیب کا اتنا کہنا تھا کہ ایک زور دار تھپڑ شاہ زیب کے منہ پر پڑا۔۔۔۔
کیا کر رہے ہیں جوان بیٹے پر کون ہاتھ اٹھاتا۔۔۔۔ ماریہ بیگم کہنے لگیں۔۔۔
چپ کر جاؤ تم تمہاری شہہ پر یہ اتنا کر کے آیا ہے تم تو خوش ہو گی اس بات پر۔۔۔۔
بابا کیا کمی عریشہ میں اتنی اچھی لڑکی ہے ریحان بولا
چپ کر جاؤ تم ریحان۔۔۔۔
اگر اس گھر میں رہنا ہے نا تو ابھی اسے طلاق دو۔۔۔
سوری بابا میں یہ نہیں کر سکتا۔۔۔
تم میری بات کو اگنور کر رہے ہو شاہ زیب ۔۔۔۔
بابا میں نے ہمیشہ آپ ہی کی سنی ہے ۔۔۔۔
💕💕💕💕
چلے جاؤ میری نظروں کے سامنے سے اس پہلے کہ میں کوئی سخت فیصلہ کروں۔۔۔
شاہ زیب بنا کچھ بولے گھر سے باہر کی طرف چل پڑا۔۔۔
شاہ زیب رک نا۔۔۔۔
ریحان شاہ زیب کو روکتا رہا۔۔۔۔
بھائی مجھے جانے دو یار۔۔۔
بابا غصے میں ہیں مان جائیں گے ۔۔۔
بھائی اگر بابا ماننے والے ہوتے تو اسی دن مان جاتے جب میں نے عریشہ سے شادی کی خواہش ظاہر کی تھى ۔۔۔
شاہ زیب کہہ کر گاڑی سٹارٹ کر کے چلا گیا ۔۔۔۔
💕💕💕
دروازے پر بل پر عریشہ نے دروازہ کھولا۔۔۔
شاہ زیب آپ آ گئے ۔۔۔۔
شاہ زیب نظریں جھکائے کھڑا تھا عریشہ کی آواز پر سر اٹھا کر دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔۔
سرخ دولہن کے لباس میں وہ کسی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔
شاہ زیب عریشہ کو دیکھ کر ساری تلخ باتیں بھول گیا۔۔۔۔
کیا دیکھ رہے ہیں عریشہ نے شرما کر کہا۔۔۔
دیکھ رہا ہوں کہ تم سچ میں اتنی خوبصورت ہو یا یہ میری محبت کا نظریہ ہے ۔۔۔
یہ تو آپ کا دل ہی بتا سکتا۔۔۔۔ عریشہ بولی۔۔۔
اچھا اگر میرا دل بتا سکتا تو پوچھو شاہ زیب عریشہ کو اپنے قریب کرتے ہوئے بولا
عریشہ نے شرما کر پلکیں جھکا لیں۔۔۔۔
شاہ زیب نے عریشہ کو اپنی گود میں اٹھایا اور اپنے کمرے کی جانب چل پڑا۔۔۔۔
شاہ زیب نے عریشہ کو لے جا کر بیڈ پر بٹھایا۔۔۔۔
اور اپنی پاکٹ سے ایک انگؤٹھی نکالی۔۔۔
اور عریشہ کو پہنائی۔۔۔
عریشہ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں میں نہیں رہ سکتا تمہارے بنا۔۔۔۔
تم نہیں جانتی تم سے دور رہ کر میں نے انگلینڈ میں وقت کیسے گزارا۔۔۔۔
تم سے دور رہنا کا سوچ کر بھی میری روح کاپ جاتی ہے اور میری سانس رکنے لگتی ہے ۔۔۔
پتا نہیں کیسے میری روح تم سے جڑی ہے ۔۔۔۔
تم میرا ساتھ کبھی نہیں چھوڑنا ورنہ میں مر جاؤں گا۔۔۔۔
شاہ زیب کہنے لگا
میں آپ کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑوں گی چاہے کچھ بھی ہو جائے ۔۔۔
شاہ زیب مسکرایا۔۔۔ اور عریشہ کو گلے لگا لیا۔۔۔۔
شاہ زیب نے عریشہ کے ماتھے پر بوسہ دیا اور پھر اس کے ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لے لیا۔۔۔
آہستہ آہستہ وہ عریشہ کواپنی محبت اور عشق کے جال میں الجھاتا گیا۔۔۔۔
صبح عریشہ کی آنکھ کھلی اور خود کو شاہ زیب کو شاہ زیب کے سینے پر پایا۔۔۔۔
مسکرا کر اسے دیکھا۔۔۔۔اور ماتھے پر بوسہ دیا ۔۔۔۔
میں جب سو رہا ہوتا ہوں تبھی پیار کرتی ہو جاگ جاتا ہوں تو شرماتی ہو شاہ زیب نے آنکھیں بند کیے ہی کہا۔۔۔
عریشہ مسکرا دی۔

Comments
Post a Comment