جنون تیرے عشق کا25
"Junoon tery Ishaq ka" Urdu novel written by Abeeha Malik....
Episode 25
#AbeehaMalikBoldRomanticNovel
شاہ زیب تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے ۔۔۔۔
میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں اور نہ اسے چھوڑوں گی جس سے تم پیار کرتے۔۔۔۔۔
عائشہ غصے سے پاگل ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔
تمہیں میں ایک انسان کا فوٹو بھیج رہی ہوں یہ میرا شوہر ہے مجھے اسکی پل پل کی خبر چاہیے عائشہ نے کسی کو کال کر کے کہا۔۔۔۔
اب تم مجھ سے زیادہ دیر کچھ نہیں چھپا پاؤ گے۔۔۔۔
عائشہ طنز یہ مسکرائی۔۔۔۔
💕💕💕
عریشہ کو اب میں گھر لے جاتا ہوں شاہ زیب نے باہر کھڑے سوچا اور خالد صاحب کے گھر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔
شاہ زیب بیٹا آؤ شائستہ بیگم نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا۔۔۔
کیسی ہیں انٹی۔۔۔
میں ٹھیک ہوں بیٹا۔۔۔
انٹی میں عریشہ کو لینے آیا ہوں اگر آپکی اجازت ہو تو میں اسے لے جاؤں۔۔۔۔
ہاں بیٹا اب وہ تمہاری امانت ہے جب چاہو اسے لے جاؤ وہ خود بھی کافی دنوں سے کہہ رہی تھی ماما مجھے گھر جاناہے ۔
شاہ زیب تم ۔۔۔
نمبرہ نے شاہ زیب کو دیکھ کر کہا ۔۔۔
کیسی ہو شاہ زیب نے نمبرہ کو کہا۔۔۔۔۔
میں تو بلکل ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔
تم عریشہ کو لینے آئے ہو نمبرہ نے منہ بنا کر کہا۔۔۔۔
ہاں میں اسے لینے آیا ہوں لیکن تم کیوں پریشان ہو رہی ہو ۔۔۔
میں اس کے جانے کے بعد اکیلی ہو جاؤں گی نا۔۔۔۔
تو جب تمہارا دل چاہے تم اس سے ملنے آنا اور یونیورسٹی بھی تو ملاقات ہو جاتی ہے تم لوگوں گی۔۔۔۔
ہاں یہ تو ہے ۔۔۔۔
اتنے میں عریشہ بھی آ گئی ۔۔۔۔
چلیں شاہ زیب نے عریشہ کو دیکھ کر کہا ۔۔۔
عریشہ نے مسکرا کر ہاں میں جواب دیا۔۔۔۔
عریشہ اپنی ماں اور بہن دونوں سے ملی۔۔۔۔۔
اپنا بہت دیھان رکھنا شائستہ بیگم نے عریشہ کو کہا۔۔۔۔
جی ماما رکھوں گی آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔۔
شاہ زیب اور عریشہ گھر آ گئے ۔۔۔۔۔
شاہ زیب نے گھر آتے ہی عریشہ کو اپنی گود میں لیا۔۔۔۔
شاہ زیب یہ کیا کر رہے ہیں ۔۔۔۔
کیا مطلب کیا کر رہا ہوں اتنے دنوں بعد بیوی ملی ہے پیار بھی نہ کروں۔۔۔۔
شاہ زیب کی بات پر عریشہ سرخ ٹماٹر کی طرح ہو گئی ۔۔۔۔۔
ایک دم سے شاہ زیب کو ایسا محسوس ہو جیسے انہیں کوئی دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔۔
کیا ہوا شاہ زیب ۔۔۔۔
عریشہ نے شاہ زیب کو اتنا گم سم کھڑا دیکھ کر کہا۔۔۔۔
کچھ نہیں شاہ زیب نے سر جھٹک کر بولا۔۔۔۔۔
عریشہ کو اپنی بانہوں میں بھر کر کمرے میں لے گیا۔۔۔۔
اسے بیڈ پر لٹا کر اسکے لبوں پر جھکتا ہے چلا گیا ۔۔۔۔۔
اچانک پھر شاہ زیب کو کھڑکی میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔۔۔۔۔
شاہ زیب کیا ہوا ہے ۔۔۔
کچھ نہیں شاہ زیب نے عریشہ کے لبوں کو چوم کر کہا۔۔۔۔۔
کوئی تو ہے کھڑکی میں شاہ زیب سوچنے لگا۔۔۔۔
شاہ زیب نے کسی کی موجودگی کا احساس پا کر عریشہ کی بوڈی پر کمبل کو ٹھیک سے اڑھا دیا۔۔۔۔
شاہ زیب نے عریشہ کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا سو جاؤ میری جان۔۔۔۔
عریشہ کو بھی شاہ زیب کا رویہ عجیب لگا۔۔۔۔۔
💕💕💕
میڈم آپ نے جو کام کہا تھا وہ ہو گیا ہے ۔۔۔
شاہ زیب سر کا کافی دن میں نے پیچھا کیا کچھ دن تو وہ کسی سے نہیں ملے لیکن پھر ایک لڑکی کو لے کر اپنے ایک گھر گئے اور اس کے ساتھ وہ شخص اتنا کہہ کر چپ ہو گیا۔۔۔۔۔
بولو کیا۔۔۔۔
میڈم میں تصویریں بھیج دیتا ہوں آپ کو
اور میڈم یہ لڑکی یونیورسٹی میں پڑھتی ہے ۔۔۔۔
مجھے اسکی یونیورسٹی کا ایڈریس چاہیے۔۔۔۔
اوکے میڈم
عائشہ نے فون کاٹ دیا۔۔۔۔۔
اور وٹس ایپ پر تصویریں دیکھنے لگی ایک ایک تصویر دیکھ کر عائشہ کے تن بدن میں آگ لگ رہی تھی ۔۔۔۔
مجھے تو کبھی ہاتھ نہیں لگایا اور اس لڑکی کے ساتھ یہ سب عائشہ غصے سے چلانے لگی۔۔۔۔
میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں تم نے میری زندگی میں آگ لگائی ہے میں تمہارا جینا حرام کر دوں گی۔۔۔۔۔
💕💕💕
عریشہ کیسی ہیں آپ ۔۔۔ علی اتنے دنوں بعد عریشہ کو دیکھ کر خوش ہوا۔۔۔
میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔
بہت افسوس ہوا مجھے آپکے بابا کے لیے علی نے عریشہ کو کہا۔۔۔۔
بس انہوں نے جانا تھا اور وہ چلے گئے عریشہ بس اتنا ہی بولی۔۔۔۔۔
عریشہ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔
ہاں بولیں ۔۔۔۔
کیا ہم کہیں بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں ۔۔۔۔
عریشہ نے کچھ سوچ کر ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔۔۔
علی اور عریشہ یونیورسٹی کے گیٹ کے پاس والے لان میں جانے لگے۔۔۔۔۔
💕💕💕
آج عریشہ کو ڈاکٹر کے پاس بھی لے کر جانا ہے مجھے شاہ زیب لو آفس میں بیٹھے خیال آیا ۔۔۔۔
ہاں اسکو ابھی یونیورسٹی سے لے آتا ہوں شاہ زیب نے یہ سوچ کر گاڑی کی چابی اٹھائی۔۔۔۔۔
💕💕💕
آج تمہیں مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا عائشہ نے عریشہ کی یونیورسٹی کے باہر کھڑے ہو کر کہا۔۔۔۔۔

Comments
Post a Comment