جنون تیرے عشق کا2nd last
"Junoon tery Ishaq ka" Urdu novel written by Abeeha Malik....
#AbeehaMalikBoldRomanticNovel
2nd last episode
عائشہ کافی دیر سے سامنے بیٹھی عریشہ کو گھور رہی تھی ۔۔۔۔۔
عریشہ میں آپ سے کافی ٹائم سے ایک بات کہنا چاہتا تھا ۔۔۔۔علی بولا
عریشہ بھی کافی حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔جی بولیں۔۔۔
عریشہ آپ ایک بہت ہی اچھی لڑکی ہیں۔۔۔۔ آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں ۔۔۔۔
کیا مطلب ہے آپ کا عریشہ حیرت سے بولی۔۔۔
عریشہ آئی لو یو سو مچ۔۔۔۔میں آپ سے بے حد محبت کرتا ہوں ۔۔۔۔۔
اوووو تو ایک اور مرغا ذبح ہونے کو تیار اس پہلے عریشہ کچھ بولتی عائشہ نے آ کر جواب دیا۔۔۔۔۔
ایکسکیوز می میڈم کون ہیں آپ اور کیا چاہتی ہیں ۔۔۔۔ علی نے فوراً عائشہ کے جواب میں کہا۔۔۔۔۔
عریشہ کے تو سات طبق روشن ہو گئے عائشہ کو دیکھ کر۔۔۔۔
اپنی ہمدرد ہی سمجھو تم۔۔۔
مجھے کسی کی ہمدردی کی ضرورت نہیں علی نے کہا۔۔۔۔
اب جو میں تمہیں بتاؤں گی اس کے بعد تمہیں کسی کی ہمدردی کی ضرورت ہو گی۔۔۔۔ عائشہ نے طنزن مسکرا کر عریشہ کو دیکھا۔۔۔
💕💕💕
کیا بکواس ہے اور جاؤ یہاں سے علی غصے سے بولا۔۔۔۔
چلی جاؤں گی پہلے اس لڑکی کو سچائی تو سن لو جس سے محبت کا اظہار کر رہے ہو کس قدر بدکردار لڑکی ہے دوسروں کے گھر خراب کرتی ہے عائشہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
مجھے تمہاری کسی بات پر یقین نہیں ۔۔۔۔
عریشہ بس کھڑے ہو کر اس کا منہ دیکھ رہی تھی شاہ زیب نے تو اسے اپنے رشتہ کا سچ بتانے سے منع کر دیا لیکن انجانے میں ہی سہی وہ علی کا دل توڑ دے گی۔۔۔۔
جب دیکھو گے تو یقین کرو گے نا عائشہ نے یہ کہہ کر موبائل نکالا اور اس میں موجود وہ تصویریں جو شاہ زیب اور عریشہ کی تھى علی کو دیکھانے لگی۔۔۔۔
علی تو بس وہ تصویریں پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا کیونکہ ان تصویروں کو دیکھ کر کوئی بھی کچھ بھی کہہ سکتا تھا ۔۔۔کیونکہ ایسا تعلق تو صرف دو پیار کرنے والوں میں ہو سکتا ہے ۔۔۔۔
علی تو کچھ بولنے لائق رہا ہی نہیں ۔۔۔۔
عریشہ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے آج اسکے اپنے شوہر کے ساتھ اسکا رشتہ ایک سوال بن گیا تھا ۔۔۔۔۔
تمہیں شرم نہیں آتی یہ سب کر کے میرے شوہر کو بھی تم نے اپنے جال میں پھسایا ہوا ہے کیسی لڑکی ہو کتنے لڑکوں کو اب تک اپنا شکار بنا چکی ہو گی جہاں پیسے والا دیکھا وہاں منہ مارتی ہو ۔۔۔۔
عائشہ کا ایک ایک لفظ تیر کی طرح عریشہ کے دل میں لگ رہا تھا ۔۔۔۔
بول کیوں نہیں رہی کیونکہ تمہارے پاس بولنے لائق کچھ ہے نہیں تمہارا بھانڈا پھوٹ گیا۔۔۔۔۔
اب ان مگر مچھ کے آنسوؤں کو بہانے کا کوئی فائدہ نہیں ۔۔۔۔۔
عزت سے میرے شوہر سے دور ہو جاؤ تمہاری وجہ سے وہ مجھ سے دور ہے ہر رات باہر گزارتا ہے تمہاری وجہ سے پتا نہیں کیا جادو کیا ہے تم نے ان پر۔۔۔۔۔
💕💕💕
دل تو کرتا ہے تمہیں جان سے مار دوں عائشہ نے عریشہ کو زور سے بازو سے پکڑ کر دھکا دیا اس پہلے کے عریشہ گرتی دو مضبوط ہاتھوں نے اسے تھام لیا۔۔۔۔
عریشہ نے سر اٹھا کر دیکھا تو شاہ زیب ۔۔۔۔
شاہ زیب جو کہ عائشہ کی ساری گفتگو سن چکا تھا آنکھوں میں لال ڈوری تیر رہی تھی ۔۔۔۔غصے سے برا حال ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔
شاہ زیب اچھا ہو گیا تم یہاں آ گئے تم پر بھی اس لڑکی کی حقیقت کھل جائے یہ جو تم سے محبت کے وعدے کرتی ہے اس لڑکے کو بھی کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
آپ جھوٹ کیوں بول رہی ہیں عریشہ سے محبت کا اظہار میں کر رہا تھا وہ نہیں جانتی تھى اس سب کے بارے میں علی اپنی آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔
عریشہ نے علی کی آنکھوں میں دیکھا جہاں اسکا دل ٹوٹنے کی آواز صاف سنائی اور دیکھائی دے رہی تھی ۔۔۔۔
شاہ زیب نے عریشہ کی طرف دیکھا رو رو کر آنکھیں سرخ ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔ شاہ زیب نے عریشہ کا ہاتھ تھاما۔۔۔۔۔ جانم ٹھیک ہو عریشہ کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا۔۔۔۔
عریشہ نے ہاں میں سر ہلایا شاہ زیب عریشہ کا ہاتھ پکڑ کر کرسی تک لایا اور اسے وہاں بٹھایا اور پانی کا گلاس لا کر اسے پانی پینے کو دیکھا اب بلکل نہیں رونا میری جان نے شاہ زیب عریشہ کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
شاہ زیب تم تو ایسے دیکھا رہے ہو جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو عائشہ غصے سے بولی۔۔۔۔۔
شاہ زیب نے کرب سے آنکھیں میچ لیں اور عریشہ کے ماتھے پر بوسہ دے کر کھڑا ہوا۔۔۔۔۔
یہ سب کیا ہے شاہ زیب عائشہ اپنا موبائل سامنے کرتے ہوئے بولی شاہ زیب کو وہ تصویریں دیکھ کر یاد آیا کہ کل گھر میں اس کو کسی کے ہونے کا احساس ہوا تھا ۔۔۔۔۔
شاہ زیب نے عائشہ کا فون لے کر دیوار پر زور سے مارا۔۔۔۔تمہیں شرم نہیں آئی یہ سب کرتے ہوئے اور کسی سے تصویریں مانگتے ہوئے ۔۔۔۔ شاہ زیب غصے سے بولا۔۔۔۔
جب تمہیں کرتے ہوئے شرم نہیں آئی تو مجھے کیوں آئے گی عائشہ نے جواب دیا۔۔۔۔۔
کیا کیا ہے میں نے شاہ زیب نے پوھا۔۔۔۔
ایک غیر عورت کے ساتھ تعلقات بناتے ہو اس کے لیے تم مجھ سے دور رہتے ہو اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے اس بازارو عورت کے سات ہر رات گزارتے ہو۔۔۔
عائشہ کی اس بات پر زور دار تماچا شاہ زیب نے اسے رسید کیا۔۔۔۔
عریشہ کے بارے میں ایک لفظ بھی منہ سے نکالا تو میں تمہارے حلق سے زبان نکال لوں گا اور کوئی ناجائز رشتہ نہیں ہے میرا اس کے ساتھ وہ بیوی ہے میری ایک یہ رشتہ میرا اسکے ساتھ محبت ہے میری ایک یہ رشتہ اس کے ساتھ اور میرے ہونے والے بچے کی ماں ہے
شاہ زیب کا ایک ایک لفظ علی اور عائشہ پر پہاڑ کی طرح کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
شاہ زیب تم نے میرے ہوتے ہوئے دوسری شادی کی عائشہ نے بولا۔۔۔۔
دوسری تو تم ہو عریشہ تو میری پہلی بیوی ہے تمہیں ہی میرے باپ نے زبردستی میرے سر پر مسلت کیا تھا ۔۔۔۔۔
شاہ زیب یہ کہہ کر عریشہ کی طرف آیا اٹھو جانم مجھے تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا ہے ۔۔۔۔
نہیں تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے شاہ زیب میں اسے جان سے مار دوں گی عائشہ عریشہ کی جانب بڑھی ۔۔۔۔
عائشہ اگر تمہاری وجہ سے عریشہ کو اور میرے بچے کو کچھ بھی ہوا تو میں تمہیں جان سے مار دوں گا۔۔۔۔۔
اسے جانا ہو گا ہماری زندگی سے تم صرف میرے ہو عائشہ بولی۔۔۔
لیکن اب میری زندگی میں صرف عریشہ ہی رہے گی تمہارے ساتھ جو کاغذی رشتہ ہے وہ بھی نہیں چاہیے مجھے۔۔۔
تم نہیں کر سکتے میرے ساتھ ایسا میں اسکی جان لے لوں گی۔۔۔
عائشہ یہ کیا کر رہی ہو چھوڑو عریشہ کو شاہ زیب نے ایک اور زور دار تھپڑ عائشہ کو مارا میں تمہیں ابھی اور اسی وقت طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں اب جو کاغذی رشتہ تھا ہو گیا ختم۔۔۔۔۔
عائشہ تو کسی صدمے میں جاپہنچی اور علی بس چپ چاپ سب دیکھتا رہا ۔۔۔۔۔
💕💕💕
شاہ زیب نے عریشہ کو اپنے سینے سے لگایا اور وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔
عائشہ بھی اپنے باپ کے گھر چلی گئی ۔۔۔۔

Comments
Post a Comment