جنون تیرے عشق کاepi 19
"Junoon tery ishaq ka" Urdu Novel written by Abeeha Malik
Episode 19
جنون تیرے عشق کا
#love story
#AbeehaMalikBoldRomanticNovel
انیسویں قسط۔۔۔
شاہ زیب آپ کے کپڑے پریس کر دیے ہیں میں نے آفس کے لیے عریشہ نے کہا۔۔۔
عریشہ مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔۔۔
جی بولیں۔۔۔
یار یونیورسٹی میں کسی کو پتا تو نہیں ہماری شادی کا یا فیملی میں...
جی نہیں پتا۔۔۔ لیکن آپ کیوں پوچھ رہے شاہ زیب ۔۔۔
عریشہ وہ بابا چاہتے کہ تم کسی کو کچھ نہ بولو ہماری شادی کے بارے میں ۔۔۔۔
عریشہ نے آنکھیں بند کر کے ایک لمبا سانس لیا اور ہممم کہہ کر سر ہلا دیا۔۔۔۔
اچھا میں آفس چلتا ہوں شاہ زیب تیار ہو کر چلا گیا ۔۔۔
💕💕💕
عریشہ کافی دیر شاہ زیب کی باتیں سوچتی رہی۔۔۔۔
اور پھر اپنے کپڑے نکالے اور یونیورسٹی کے لیے ریڈی ہو کر جانے لگی۔۔۔۔
ارے آپ یہاں اپنے گھر کے باہر علی کو کھڑا دیکھ کر عریشہ بولی۔۔۔
جی وہ میں نے سوچا کہ پڑوسی ہونے کا حق ادا کیا جائے اور یونیورسٹی آپ کو لے کر چلا جاؤں۔۔۔۔
آپ کا بہت شکریہ لیکن میں خود جاسکتی ہوں۔۔۔۔
اب تو میں لینے آ گیا نا ابھی تو میرے ساتھ چلیں پلیز۔۔۔۔
اوکے ایک منٹ عریشہ کہہ کر گھر کو لاک کرنے لگی
ویسے ایک بات پوچھوں علی نے کہا۔۔۔
جی۔۔۔
آپ کے گھر اور کوئی نہیں رہتا کیا۔۔۔۔
کیوں آپ کیوں پوچھ رہے ۔۔۔
میں اس لیے پوچھ رہا کہ آپ لاک لگا رہی تھیں ۔۔۔
جی میں اکیلی ہی رہتی ہوں۔۔۔۔
اور آپ کے پیرنٹس۔۔۔۔
بابا ہیں ماما نہیں ہیں اس دنیا میں ۔۔۔
اوووو سوری۔۔۔۔
ہممم اٹس فائن۔۔۔
آپ کے بابا آپ کے پاس نہیں رہتے کیا ۔۔۔۔
نہیں وہ اپنی دوسری وائف اور بچوں کے پاس رہتے ۔۔۔۔
ہممم۔۔۔ آپ وہاں کیوں نہیں رہتی۔۔۔۔
آپ کچھ سوال پوچھ رہے عریشہ نے تنگ آ کر کہا۔۔۔
اووو سوری میں کچھ زیادہ ہی فری ہو گیا۔۔۔۔
اتنے میں یونیورسٹی بھی آ گئی ۔۔۔
اور پلیز آئندہ آپ مجھے لینے مت آئیے گا میرے پاؤں ہیں میں خود آ جا سکتی ہوں ۔۔۔۔
عریشہ کہہ کر اپنے کلاس روم کی طرف چل دی۔۔۔۔
کچھ تو برا چل رہا ہے تمہاری زندگی میں عریشہ علی سوچنے لگ گیا ۔۔۔۔
💕💕💕
ہائے عریشہ ۔۔۔
نمبرہ عریشہ کو آتے دیکھ کر بولی. ۔۔۔۔
عریشہ بس مسکرائی۔۔۔
کیسی ہے ۔۔۔
میں ٹھیک اور تو کیسی ہے اور گھر سب کیسے بابا کیسے ہیں ۔۔۔۔
سب ٹھیک بابا بھی ٹھیک ہیں اور تجھ سے ملنا چاہتے ہیں میں نے تجھے پہلے بھی بولا تھا ۔۔۔۔
ہاں میں آج تمہارے ساتھ جاؤں گی گھر ۔۔۔
ہممم ۔۔۔
عریشہ کیا بات ہے اتنا اداس چہرہ کیوں ہے تمہارا ۔۔۔
نمبرہ بس ایسے ہی ۔۔۔
شاہ زیب کی شادی کی وجہ سے ۔۔۔
ہمممم۔۔۔
عریشہ میں تمہیں کچھ بتانا چاہتی ۔۔۔۔
ہاں بولو نمبرہ کیا ہوا۔۔۔۔
عریشہ ریحان نے مجھے پروپوز کیا ہے ۔۔۔۔
کیا عریشہ حیرت سے بولی۔۔۔۔
ہاں لیکن میں نے اسے بولا ہے کہ پہلے اپنے گھر بات کرو۔۔۔۔
ہمممم۔۔۔۔
عریشہ بس اتنا ہی بولی۔۔۔۔
💕💕💕
چلو عریشہ اب گھر چلیں۔۔۔
ہاں میں زرا شاہ زیب کو بتا دوں۔۔۔۔
عریشہ نے شاہ زیب کو کال کی۔۔۔۔
ہاں عریشہ بولو. ۔۔۔
شاہ زیب میں نمبرہ کے ساتھ بابا کو دیکھنے جا رہی آپ مجھے شام کو لے جائیے گا۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ شاہ زیب کچھ بولتا عائشہ شاہ زیب کے آفس میں آ کر کہنے لگی شاہ زیب انکل کہہ رہے تھے تم اور میں اپنے شادی کے ڈریس خود لیں۔۔۔۔
عریشہ کے کانوں کو یہ باتیں جیسے چیر رہی تھی ۔۔۔۔
عریشہ نے بنا سوچے فون بند کر دیا۔۔۔۔۔
اور آنسو کا دریا عریشہ کے آنکھوں سے بہہ رہا تھا ۔۔۔۔
عریشہ کیا ہوا ہے یار تم کیوں اتنی بری طرح رو رہی ہو نمبرہ کہنے لگی. ۔۔۔۔۔
عریشہ خود کو سنبھالتے ہوئے کہنے لگی کچھ نہیں بس اپنی ماما کی بہت یاد آ رہی ۔۔۔۔
نمبرہ نے عریشہ کو گلے لگا لیا۔۔۔۔
💕💕💕
بابا عریشہ بھاگ کر اپنے باپ کے گلے لگی۔۔۔۔
آ گئی میری بیٹی ۔۔۔ خالد صاحب خوشی سے کہنے لگے۔۔۔۔
جی بابا آ گئی ۔۔۔۔
کیسے ہیں آپ ۔۔۔
تم آ گئی ہو نا اب اچھا ہو گیا ہوں ۔۔۔۔
عریشہ مسکرائی۔۔۔۔
بیٹا تم خوش تو ہو نا ۔۔۔۔۔
جی بابا بہت خوش ہوں ۔۔۔۔
شاہ زیب میرا بہت خیال رکھتے اور اب تو انکل بھی بدل رہے ۔۔۔۔
عریشہ اپنے باپ کوخوش دیکھنے کے لیے جھوٹ بول رہی تھی ۔۔۔۔
اسلام و علیکم ماما۔۔۔۔ عریشہ شائستہ بیگم کو دیکھ کر بولی۔۔۔۔
ہممم وعلیکم سلام۔۔۔۔
کیسی ہیں ماما۔۔۔
تمہارے جانے کے بعد تو بہت خوش ۔۔۔
عریشہ بس مسکرا دی۔۔۔۔
شائستہ بیگم کھانے کا بندوبست کرو میری بیٹی آئی ہے خالد صاحب بولے۔۔۔۔
اتنا خرچہ کرنے کی کیا ضرورت ہے کوئی پہلی بار تو نہیں آئی ۔۔۔ جو بنا ہے کھا لے گی۔۔۔۔
نہیں بابا اس کی کوئی ضرورت نہیں میں اب گھر جاؤں گی ۔۔۔۔
بیٹا ابھی تو آئی ہو۔۔۔۔
بابا پھر آؤں گی ابھی شاہ زیب کے ساتھ کہیں جانا ہے ۔۔۔۔
عریشہ اپنے باپ کو مل کر جانے لگی۔۔۔۔
سنو لڑکی شائستہ بیگم نے گیٹ پر عریشہ کو روکا۔۔۔
جی ماما۔۔۔۔
اب تمہارا اس گھر سے کوئی تعلق نہیں ہے آج تو آ گئی ہو دوبارہ کبھی مت آنا۔۔۔۔
عریشہ بس خاموشی سے آٹو میں اپنے گھر آ گئی ۔۔۔۔

Comments
Post a Comment