جنون تیرے عشق کاepi 20
"Junoon tery ishaq ka" urdu Novel written by Abeeha Malik
Episode 20
جنون تیرے عشق کا
#love story
#AbeehaMalikBoldRomanticNovel
بیسویں قسط
میں کہاں جاؤں گی اب اگر شاہ زیب نے انکل کے کہنے پر مجھے گھر سے نکال دیا تو بابا کے گھر بھی نہیں جا سکتی
اب تو ماما نے منع کر دیا کاش میری اپنی ماما زندہ ہوتی تو آج میرے ساتھ یہ نہ ہوتا۔۔۔۔۔ عریشہ رونے لگی۔۔۔۔
کیا مسلہ ہو سکتا ہے عریشہ کے ساتھ وہ کیوں اتنا پریشان رہتی ہے اور کل تو روتے ہوئے بھی دیکھا اسے علی اپنے کمرے میں ٹہل کر سوچ رہا تھا ۔۔۔
جو بھی ہو ہے وہ بہت اچھی ۔۔۔۔ میرے دل میں اس کے لیے الگ ہی جزبات ہیں ۔۔۔۔ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں عریشہ ۔۔۔۔
💕💕💕
فرید آپ یہ اچھا نہیں کر رہے شائستہ بیگم بولیں۔۔۔
کیا کر رہا ہوں میں ۔۔۔
شاہ زیب کی شادی کروا کر ۔۔۔۔
میں بلکل ٹھیک کر رہا ہوں وہ میرا بیٹا ہے جہاں مرضی سے شادی کروں گا آگے ایک غلطی کر چکا ہے وہ اب اسکی غلطی میں سدھاروں گا۔۔۔۔
آپ کی اپنی بیٹی نہیں ہے نا اس لیے آپ اس کے ساتھ ایسا کر رہے ۔۔۔۔ قصور کیا ہے اس بچی کا بغیر ماں کے پلی ہے بہت دکھ دیکھے ہیں اس نے۔۔۔۔
جو بھی ہو اسکا اور میری بیٹے کا کوئی جوڑ نہیں ساری زندگی اسکا باپ مجھے نیچا دیکھاتا رہا۔۔۔۔
وہ نیچا نہیں دکھاتے رہے بلکہ آپ نے اسے اپنی انا کا مصلہ بنایا ہوا ہے ۔۔۔۔
جو بھی ہے میں مزید کوئی بحث نہیں چاہتا۔۔۔۔
💕💕💕
ریحان کب سے نمبرہ کو چھت پر کھڑے ہو کر دیکھ رہا تھا ۔۔۔
نمبرہ مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔۔۔
ہاں بولو۔۔۔۔
نمبرہ میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں ۔۔۔۔ میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر۔۔۔۔
ریحان تمہارے بابا کبھی نہیں مانیں گے۔۔۔
میں منا لوں گا یار۔۔۔۔
شاہ زیب تو آج تک تو عریشہ کے لیے سٹینڈ نہیں لے سکا دوسری شادی کر رہا ہے اور آپ چاہتے ہیں میں بھی اپنی بربادی کا تماشا دیکھوں۔۔۔
بابا کو صرف عریشہ سے ہی مصلہ تھا نمبرہ۔۔۔۔
آپ کے بابا کو صرف عریشہ نہیں مصلہ تھا بلکہ میرے بابا سے مصلہ ہے ۔۔۔۔۔
پلیز تم مجھے چھوڑو نہیں ۔۔۔۔۔
دیکھیں ریحان مجھے میرے باپ کی عزت اور وقار آپ سے کئی زیادہ عزیز ہے ۔۔۔۔
نمبرہ کہہ کر نیچے چلے گئ۔۔۔۔
💕💕💕
عریشہ یار مجھے شاپنگ پہ جانا ہے ۔۔۔۔۔
نمبرہ کہنے لگی ۔۔۔
ہاں اس کلاس کے بعد چلتے ہیں ۔۔۔
ٹھیک ہے شاپنگ کے بعد میں تمہیں گھر چھوڑ دوں گی۔۔۔
نمبرہ اور عریشہ شاپنگ پر چلی گئیں ۔۔۔
شاہ زیب اس مال میں جاتے ہیں یہاں کپڑے اچھے ۔۔۔۔عائشہ کہنے لگی۔۔۔۔
تم چلی جاؤ میں گاڑی میں انتظار کرتا ہوں ۔۔۔۔
کیا ہو گیا ہے شاہ زیب 2 دن بعد ہماری شادی ہے اور تم ایسا کر رہے۔۔۔
اچھا چلو۔۔۔۔
یہ ڈریس کیسا لگ رہا ہے عریشہ۔۔۔
بہت اچھا ہے ۔۔۔۔
نمبرہ تم دیکھو کال آ رہی میں سن کر آتی عریشہ کہہ کر شاپ سے باہر آ گئی ۔۔۔۔۔
اچانک عریشہ کی نظر شاہ زیب اور عائشہ پر پڑی۔۔۔۔
شاہ زیب بھی وہیں رک گیا۔۔۔۔
عریشہ کے تو جیسے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔۔۔۔
کیا ہوا عریشہ کب سے انتظار کر رہی ہوں اندر۔۔۔۔
نمبرہ کہنے لگی۔۔۔
کیا ہوا عریشہ کہاں دیکھ رہی ہو نمبرہ نے سامنے دیکھ کر کہا۔۔۔۔
نمبرہ کی نظر بھی شاہ زیب پر پڑی۔۔۔۔
عریشہ چلو یہاں سے نمبرہ غصے سے بولی۔۔۔۔
عریشہ تو جیسے کہیں کھو سی گئی تھی ۔۔۔
عریشہ یہ تو کہہ رہا تھا کہ یہ اپنے باپ کی وجہ سے شادی کر رہا ہے تو کیا یہ اس لڑکی کے ساتھ گھوم بھی انکی مرضی سے رہا ہے ۔۔۔۔
آنسو تو لڑیوں کی طرح عریشہ کے گالوں پر بہہ رہے تھے ۔۔۔۔
نمبرہ میں گھر جا رہی ہوں عریشہ کہنے لگی۔۔۔
لیکن عریشہ ۔۔۔۔
پلیز نمبرہ میں اکیلا رہنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔
عریشہ کہہ کر گھر چلی گئی ۔۔۔۔

Comments
Post a Comment