جنون تیرے عشق کا epi 7
"Junoon Tery ishaq ka" urdu Novel written by Abeeha Malik
Episode 7
جنون تیرے عشق کا
#love story
#AbeehaMalikBoldRomanticNovel
ساتویں قسط
عریشہ بیٹا کیا کرتی ہو آج کل ماریہ بیگم کی بات پر عریشہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی
انٹی میں یونیورسٹی جاتی ہوں
ماشاء الله میری بیٹی تو بہت سمجھدار ہے
شاہ زیب بار بار عریشہ کو دیکھ رہا تھا عریشہ اسکی آنکھوں کی تپش کو محسوس کر سکتی تھی
اچھا بھائی صاحب ہم چلتے ہیں اب کافی دیر ہو گئی
نہیں ماریہ بہن اتنے عرصے بعد آئی ہیں کھانا کھا کر جائیے گا عریشہ نمبرہ بیٹے کھانے کا بندوبست کرو
جی بابا کہہ کر عریشہ اور نمبرہ اٹھ کر کچن میں چلی گئیں
بھائی صاحب آپ تکلف کر رہے ہیں
تکلف کیسا ماریہ بہن
💕💕💕
آوئے ہوئے آج تو لوگ بلش کر رہے ہیں نبمرہ عریشہ کو چھیڑ رہی تھی
ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے تم اپنا کام کرو
ویسے آج بھی اسکی آنکھوں میں تمہارے لیے پیار ہے
نمبرہ کی اس بات پر عریشہ مسکرا دی
💕💕💕
انکل مجھے پیاس لگ رہی ہے کچن کس طرف ہے ریحان بولا
بیٹا میں عریشہ یا نمبرہ کو کہہ دیتا ہوں
نہیں انکل میں خود پی آتا ہوں انکو کیوں زحمت دینی
بیٹا یہاں سے جاکر لفٹ
اوکے انکل
عریشہ اور نمبرہ اپنی باتوں میں مصروف تھیں
اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی
نمبرہ نے مڑ کر دیکھا جی کیا چائیے آپ کو
جی ویسے تو بہت کچھ چائیے لیکن فلحال پانی کا ایک گلاس. ریحان مسکراتے ہوئے بولا
عریشہ بھی اپنی مسکراہٹ دبا کر ہسنے لگی
یہ ریحان بھائی کہاں رہ گئے شاہ زیب دل میں سوچنے لگا
جا کر دیکھتا ہوں
ماما مجھے بھی پیاس لگی ہے میں بھی پانی پی آؤں
شاہ زیب کہنے لگا
ہاں ہاں بیٹا جاؤ تمہارا اپنا ہی گھر ہے فرید صاحب کہنے لگے
ویسے آپ اتنی خوبصورت ہیں یا مجھے لگ رہی ہیں ریحان نمبرہ پر مسلسل لائن مار رہا تھا
جی یہ آپکی بچپن کی عادت ہے فلٹ کرنا یا مجھے دیکھ کر آپ کو یاد آ رہا ہے
نمبرہ نے بھی جواب دیا
ریحان بھائی ابھی تک آپ کو پانی نہیں ملا
تمہارے بھائی تو کچھ زیادہ ہی مجھ پرفلیٹ. ہوں رہے ہیں شاہ زیب نمبرہ منہ چڑھا کر بولی
💕💕💕
کیا ریحان بھائی کہیں بھی شروع ہو جاتے ہیں آپ شاہ زیب نے آہستہ سے ریحان کے کان میں کہا
عریشہ تو شاہ زیب کی موجودگی سے شرم سے مڑی ہی نہیں اور اپنے کام میں لگی رہی
ویسے نمبرہ تمہاری بہن بولتی نہیں ہے کیا یا ہم اتنے پرائے ہو گئے ہیں کہ دیکھنا بھی ضروری نہیں سمجھا شاہ زیب نے عریشہ کو یوں مصروف دیکھ کر کہا
نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں دراصل یہ تم سے شرما رہی ہے نا تم اتنے ٹائم بعد واپس آئے اور یہ بچپن سے تمہارا انتظار میں تھى نا اور تمہیں پتا شاہ زیب تمہارے دیے ہوئے گڈے سے اپنے دل کی باتیں کرتی ہے
نمبرہ کی ایک ایک بات پر عریشہ کا دل حلق میں آ رہا تھا
شاہ زیب نمبرہ کی بات پر مسکرانے لگا
اور عریشہ کی حالت بری ہونے لگی
💕💕💕
نمبرہ بیٹا ۔۔۔۔
شائستہ بیگم نے نمبرہ کو آواز دی
جی ماما آ رہی ہوں
عریشہ میں آتی ہوں نمبرہ یہ کہہ کر کچن سے چلی گئی
شاہ زیب میں پانی پی چکا اب میں بھی چلتا ہوں ریحان شاہ زیب کو آنکھ مار کر کچن سے نکل گیا
عریشہ اور شاہ زیب کچن میں اکیلے تھے عریشہ کا دل زور سے دھڑک رہا تھا
کیا ہم اب اتنے پرائے ہیں کہ آپ ہمیں دیکھنا بھی پسند نہیں کر رہیں
شاہ زیب کی اس بات پر عریشہ نے ہمت کر کے منہ ادھر کیا اور کہا نہیں ایسی کوئی بات نہیں
تو کیسی بات ہے کیا میں وہ ہی شاہ زیب نہیں جسے تم بچپن میں جانتی تھى
عریشہ نے ایک بار نظر اٹھا کر شاہ زیب کو دیکھا اور مسکرا دی
کیسی ہو ۔۔۔
میں ٹھیک ہوں
تمہیں پتا مجھے لگا تھا تم نے شادی نا کر لی ہو اور کسی اور کی نا ہو گئی ہو
شاہ زیب کہنے لگا
مجھے بھی کچھ ایسا ہی لگا تھا عریشہ نے کہا
میں یہاں صرف تمہارے لیے آیا تھا عریشہ شاہ زیب نے عریشہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا
کوئی دیکھ لے گا عریشہ گھبرا کر کہنے لگی
تو دیکھنے دو میں کسی سے نہیں ڈرتا شاہ زیب کہنے لگا
یہ میرا نمبر ہے کال کرنا شاہ زیب اپنا کارڈ دیتے ہوئے کہنے لگا
اور ہاں اب تمہارے کچھ ہی دن ہیں اس گھر میں اب میں تمہیں لے جاؤّں گا یہاں سے مجھے اپنے بچپن کا وعدہ یاد ہے شاہ زیب عریشہ کے کان کے قریب ہو کر کہنے لگا اور کچن سے چلا گیا
💕💕💕
عریشہ کی تو سانسیں ہی اٹک گئی تھیں
اور دل سے بہت خوش بھی تھى کہ شاہ زیب آج بھی صرف اسی سے محبت کرتا ہے
شکریہ بھائی صاحب اتنی مہمان نوازی کے لیے
اب ہم چلتے ہیں
شاہ زیب نے ایک بار پھر عریشہ کو مسکرا کر دیکھا

Comments
Post a Comment