جنون تیرے عشق کاepi12
"Junoon tery ishaq ka" Urdu Novel written by Abeeha Malik
Episode 12
جنون تیرے عشق کا
#love story
#AbeehaMalikBoldRomanticNovel
بارویں قسط۔۔۔۔
بہت ہی بدتمیز لڑکے ہو تم۔۔۔۔
سوری ٹو سے انٹی لیکن یہ بدتمیزی میری آپ ہی کو دیکھ کر باہر آتی ہے شاہ زیب طنزیہ مسکرایا۔۔۔
بس کر دو شائستہ بیگم خالد صاحب بولے۔۔۔
ہاں مجھے ہی چپ کروائیے گا اسکی ماں نے اسے کچھ نہیں سکھایا اور اچھا ہے اس منحوس کو ساتھ لے کر جا رہا ہے پیدا ہوتے ہی اپنی ماں کو نگل گئی پتا نہیں اور کس کو مارے گی۔۔۔۔
عریشہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے جیسے دکھتی رگ پر کسی نے ہاتھ رکھا ہو۔۔۔۔
شاہ زیب سے عریشہ کے آنسو برداشت نہ ہوئے اور اس نے جواب دینا ضروری سمجھا ۔۔۔۔
انٹی اگر ایسی بات ہے تو مر تو آپ کو بھی جانا چاہیے تھا ابھی تک مگر آپ تو بہت ڈھیٹ ہیں ۔۔۔۔۔
اور عریشہ کی ماما کی موت ایسے ہی لکھی تھی اس میں عریشہ کا کوئی قصور نہیں اور اب اگر آپ نے ایک لفظ بھی منہ سے عریشہ کے خلاف نکالا تو اچھا نہیں ہو گا۔۔۔
شاہ زیب کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا ۔۔۔
عریشہ جاؤ پیکنگ کرو اپنی تم میرے ساتھ جا رہی ہو۔۔۔۔
شاہ زیب نے بولا
عریشہ شاہ زیب کی بات کو سن کر اپنے بابا کو دیکھنے لگی۔۔۔
جاؤ بیٹا اپنا سامان پیک کرو اور اپنے شوہر کے ساتھ جاؤ۔۔۔
جی بابا۔۔۔
عریشہ اور نمبرہ دونوں کمرے میں چلی گئیں ۔۔۔
💕💕💕
عریشہ میں تمہیں بہت مس کروں گی۔۔۔
نمبرہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی۔۔۔
نمبرہ میں بھی تمہیں اوربابا کو بہت یاد کروں گی اور تمہارا جب دل کرے تم مجھ سے ملنے آجانا۔۔۔
عریشہ نے نمبرہ کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
آج شاہ زیب صاحب کا آفس کی کیوں خالی ہے عائشہ نے کاؤنٹر سے پوچھا ۔۔۔
میم سر آج آفس آئے ہی نہیں ۔۔۔
اچھا عریشہ حیرت سے بولی۔۔۔
مجھے انکا پرسنل کونٹیکٹ نمبر مل سکتا ہے کیا۔۔۔
جی میم یہ انکا کونٹیکٹ نمبر۔۔۔
عائشہ نے کال کی ۔۔۔۔
ہیلو۔۔۔۔
کون شاہ زیب بولا
شاہ زیب میں عائشہ بات کر رہی ۔۔۔۔
شاہ زیب نے آنکھیں گھما کے موبائل کو دیکھا تمہیں میرا نمبر کہاں سے ملا
وہ میں آفس آئی تھى تو تم نہیں آئے تو کاؤنٹر سے نمبر لیا اور سوچا پوچھوں خیریت ہے جو آج آئے نہیں ۔۔۔
ہاں خیریت ہے بس سر میں کچھ درد تھا اور کام کا موڈ نہیں تھا ۔۔۔۔
ہممم تو فر کہیں باہر کافی پے چلیں موڈ بھی فرش ہو جائے گا۔۔۔۔
عائشہ اگر مجھے کہیں جانا ہی ہوتا تو میں آفس ہی آجاتا اور پلیز میں بزی ہوں اس وقت بائے۔۔۔
شاہ زیب نے کال کاٹ دی۔۔۔۔
💕💕💕
عجیب انسان ہے عائشہ نے موبائل سکرین کی طرف دیکھ کر بولا
عریشہ پیکنگ ہو گئی شاہ زیب نے حال میں آکر پوچھا ۔۔۔
عریشہ نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
اچھا انکل اب ہمیں اجازت دیں اور دعا کیجیے گا ہمارا لیے۔۔۔
خالد صاحب اور نمبرہ عریشہ سے ملے لیکن شائستہ بیگم منہ بنا کر کمرے میں چلی گئیں ۔۔۔
شکر ہے اس گھر کی ایک مصیبت تو کم ہوئی نور بولی۔۔۔
نور تمہاری زبان بہت نہیں چلنے لگی نمبرہ نے غصے میں کہا۔۔۔۔
کوئی بات نہیں نمبرہ عریشہ کہنے لگی
نور بھی منہ بنا کر اپنے میں چلی گئی ۔۔۔
💕💕💕
شاہ زیب عریشہ کا بہت دیھان رکھنا۔۔۔۔
نمبرہ ان دونوں کو دروازے تک چھوڑنے آئی۔۔۔
شاہ زیب مسکرا دیا ۔۔۔۔
شاہ زیب ہم کہاں جائیں گے ۔۔۔۔
میں نے یہاں سے کافی دور ایک گھر لیا ہے وہ گھر مجھے بہت پسند ہے بلکل پر سکون سی جگہ پر اب تم اور میں وہاں رہیں گے۔۔۔
اور آپ کے گھر جب پتا چلے گا تو۔۔۔
تب کی تب دیکھیں گے مائی لو
تھوڑی دیر میں شاہ زیب اور عریشہ اس گھر میں پہنچ چکے تھے ۔۔۔
شاہ زیب یہ گھر کتن پیارا ہے ۔۔۔
تمہیں پسند آیا ۔۔۔۔
ہاں بہت۔۔۔۔
چلو اندر چلیں شاہ زیب عریشہ کو لے کراندر گیا۔۔۔
شاہ زیب نے اندر آتے ہی عریشہ کو اپنی گود میں اٹھا لیا۔۔۔
ارے یہ کیا کر رہے ہیں ۔۔۔۔
لو جی اب اپنے گھر میں اپنی ہی بیوی کو پیار کرنے پر بھی پابندی ہے ۔۔۔۔
عریشہ شرما کر نیچے دیکھنے لگی۔۔۔
چلو اپنا روم تو دیکھو۔۔۔۔
شاہ زیب عریشہ کا ہاتھ تھام کر سیڑیاں چرھنے لگا
💕💕💕
یہ روم تو بہت ہی پیارا ہے ۔۔۔۔
اور یہاں میری اتنی ساری پکس کیسے عریشہ حیرت سے بولی کیونکہ پورا کمرہ عریشہ کی فوٹو سے بھرا تھا ۔۔۔۔
کیونکہ یہ گھر صرف تمہارا ہے اور میں بھی شاہ زیب عریشہ کے کان میں بولا
چلو ایک اور چیز دکھاتا ہوں ۔۔۔۔
کیا
شاہ زیب نے جب کپڑوں والی کبرڈ کھولی ۔۔۔۔
اتنے سارے کپڑے کس کے لیے عریشہ حیرت سے بولی۔۔۔
میری جان صرف تمہارے لیے۔۔۔۔
لیکن آپ یہ سب کیسے کرتے رہے ۔۔۔۔
بس اس گھر میں تمہارے ضرورت کی ہر چیز ہے ۔۔۔
تھینک یو ۔۔۔
نو نیڈ شاہ زیب مسکرایا۔۔۔
شاہ زیب کا فون بجا۔۔۔۔
ارے یار کس کی کال آ گئی ۔۔۔
ریحان بھائی۔۔۔۔
ہیلو۔۔۔۔
اوئے ہیلو کے بچے کہاں ہے توں صبح سے گھر سے نکلا ہے ابھی تک گھر نہیں آیا شام ہونے کو ہے ماما پوچھ رہیں۔۔۔
آ رہا ہوں بھائی۔۔۔۔
ہی کہاں۔۔۔۔
اپنی زندگی کے پاس ۔۔۔۔
مطلب۔۔۔
آ کر سمجھاتا ہوں نا بھائی۔۔۔
چل جلدی سے آ جا ریحان بولا
شاہ زیب نے کبرڈ سے ایک برائیڈل سوٹ نکال کر عریشہ کو پکڑایا عریشہ میں واپس آؤں تو آج اپنی دلہن کو دیکھوں۔۔۔۔۔
عریشہ نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
میں جلدی آ جاؤں گا دروازہ اچھے سے بند کر لینا ۔۔۔
شاہ زیب کہہ کر چلا گیا اور عریشہ نے دروازہ لوک کر لیا

Comments
Post a Comment