جنون تیرے عشق کاEpi23
"Junoon tery Ishaq ka" Urdu novel written by Abeeha Malik....
#AbeehaMalikBoldRomanticNovel
Episode 23
ابھی بابا کہاں ہیں ماما۔۔۔
ابھی تو کسی کام کے سلسلے میں باہر گئے ہیں ۔۔۔۔
ہممم اور عائشہ۔۔۔۔
وہ اپنے روم میں ہے ۔۔۔۔
شاہ زیب عائشہ کے روم کی طرف چل پڑا۔۔۔۔
کیا ڈرامہ کیا ہے تم نے یہ صبح صبح۔۔۔۔
شاہ زیب نے عائشہ کو شیشے کے سامنے کھڑا پا کر بولا
ڈرامہ میں نے کیا ہے یا تم نے میرے ساتھ کیا ہے کہاں تھے تم ساری رات۔۔۔۔۔
میں نے تمہیں پہلے ہی کہا تھا میرے دل میں تمہارے لیے کوئی احساس نہیں ہے اور یہ شادی بھی میں نے صرف میرے بابا کی وجہ سے کی ورنہ کبھی نہ کرتا۔۔۔۔۔
تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو تم صرف میرے ہو تمہیں مجھ سے پیار کرنا ہو گا۔۔۔۔ عائشہ شاہ زیب کا کالر پکڑ کر بولی۔۔۔
پیار بولنے سے یا زبردستی کرنے سے نہیں ہوتا پیار تو ایک خوبصورت احساس ہے اور چھیننے والے پیار کر ہی نہیں سکتے کیونکہ پیار تو قربانی مانگتا ہے ۔۔۔ خیر تم جیسی بےحس لڑکی کو کیا پتا۔۔۔ شاہ زیب نے عائشہ کا نازو جھٹک کر کہا۔۔۔۔۔
اب کہاں جا رہے ہو عائشہ نے شاہ زیب کو جاتا دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔
جہاں مجھے سکون ملتا ہے ۔۔۔۔ شاہ زیب بولا۔۔۔
دیکھو شاہ زیب میں تمہاری بیوی ہوں نا میں تمہیں سکون دے سکتی ہوں۔۔۔۔
شاہ زیب مڑکر مسکرایا۔۔۔۔
سکون کی ضرورت پہلے تمہیں تمہارے اندر سکون نہیں تم دوسروں کو کیا دو گی۔۔۔۔
شاہ زیب کہہ کر چلا گیا اور عائشہ چلاتی رہ گئی ۔۔۔۔
💕💕💕
شاہ زیب ابھی تک نہیں آئے عریشہ سوچ ہی رہی ہوتی ہے کہ اسکا فون بجتا ہے ۔۔۔۔۔
یہ کون کال کر رہا ہے ۔۔۔۔۔
ہیلو۔۔۔
ہیلو عریشہ ۔۔۔۔
جی کون۔۔۔
میں علی بات کر رہا ہوں ۔۔۔۔
آپ عریشہ حیرت سے بولی ۔۔۔
جی میں وہ اصل میں پوچھنا چاہ رہا تھا کہ آپ دو دن سے آ نہیں رہی یونیورسٹی ۔۔۔۔
وہ میری کچھ طبیعت خراب ہے اس وجہ سے آ نہیں رہی۔۔۔۔
اب آپ ٹھیک ہیں کیا ۔۔۔۔
ہاں جی میں ٹھیک ہوں اور اب رکھتی ہوں کل سے آوں گی یونیورسٹی ۔۔۔۔
جی ٹھیک ہے ۔۔۔
اس نے میرا نمبر کہاں سے لیا ہو گا عریشہ سوچنے لگی اتنی میں دروازہ بجا۔۔۔
شاہ زیب واپس آ گیا تھا ۔۔۔۔
شاہ زیب کیا کہا بابا نے ۔۔۔۔
وہ گھر نہیں تھے۔۔۔۔
اور وہ ۔۔۔۔
شاہ زیب نے اس بات پر عریشہ کی آنکھوں میں دیکھا جہاں اسے اپنی محبت کھونے کا ڈر نظر آیا۔۔۔۔
عریشہ میں صرف تمہارا ہوں ۔۔۔شاہ. زیب نے عریشہ کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے قریب کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
عریشہ مسکرائی۔۔۔۔
شاہ زیب نے نرمی سے اپنے ہونٹوں سے عریشہ کے ہونٹوں کو چھوا۔۔۔
عریشہ شرم کے مارے سرخ ہو رہی تھی ۔۔۔۔
شاہ زیب کی گستاخیاں بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔۔
عریشہ کے لیے اب کھڑا ہونا بھی مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔
شاہ زیب نے عریشہ کو اٹھایا اور خود صوفے پر بیٹھ کر اسے اپنی گود میں بٹھایا۔۔۔۔۔
عریشہ کی شرٹ کے پہلے دو بٹن کھول کے دل کے مقام پر اپنے ہونٹ رکھے تھے۔۔۔۔۔
شاہ زیب عریشہ کو لے کر کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔۔
اور اپنی محبت اس پر نچھاور کرتا رہا ۔۔۔۔۔
💕💕💕
صبح عریشہ یونیورسٹی پہنچی۔۔۔۔۔
علی کی نظر عریشہ پر پڑی۔۔۔
ہائے۔۔۔
ہائے۔۔۔
کیسی ہیں آپ عریشہ ۔۔۔۔
میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ عریشہ کہہ کر جانے لگی۔۔۔
آپ مجھ سے سے اتنا بھاگتی کیوں ہیں عریشہ ۔۔۔
آپ سے کیوں بھاگوں گی میں ۔۔۔
میں صرف آپ کو اپنا دوست بنانا چاہتا ہوں کیونکہ آپ بہت اچھی لڑکی ہیں دوسروں جیسی نہیں ہیں ۔۔۔۔
مجھے نہیں کرنی کوئی دوستی پلیز۔۔۔
دوست بننے میں کیا برائی ہے آپ کو مجھ میں کوئی عیب نظر آتا ہے کیا۔۔۔۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں ۔۔۔۔
تو پھر فرینڈز علی نے ہاتھ بڑھایا۔۔۔۔
عریشہ نے کچھ دیر سوچا اور پھر ہاتھ ملا لیا۔۔۔۔
تھینکس اپنی دوستی کے لائق سمجھنے کے لیے۔۔۔۔
کوئی بات نہیں عریشہ نے جواب دیا اچھا میری کلاس کا وقت ہو گیا پھر بات کریں گے۔۔۔۔
علی عریشہ کو جاتا دیکھ کر بس مسکراتا رہا۔۔۔۔۔
💕💕💕
ماما میری بھی شادی کا اب سوچیں نا مجھے بھی نمبرہ سے شادی کرنی ہے ۔۔۔۔۔
تم پاگل تو نہیں ہو گئے ریحان تمہارے بابا کبھی نہیں مانیں گے۔۔۔۔۔
میں آپ کو بتا رہا ہوں شادی کروں گا تو نمبرہ سے ورنہ کسی سے نہیں ۔۔۔۔۔ اور بتا دیجیے گا بابا کو میں شاہ زیب نہیں جو انکے ہر غلط بات مانوں گا میں اپنی محبت قربان نہیں کرنے والا۔۔۔۔۔
نمبرہ تم گھر بات کرو شادی کی میں صرف تم سے ہی شادی کروں گا ۔۔۔
ریحان تمہارے بابا نمبرہ نے فون پر کہا۔۔۔۔
مجھے کسی کی پرواہ نہیں میں بس اتنا جانتا ہوں کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔۔۔۔۔
ریحان تم کیوں پاگلوں جیسی باتیں کر رہے ہو تمہارے نہیں مانیں گے اور میرے بابا بھی بہت بیمار ہیں وہ یہ سب نہیں برداشت کر سکتے۔۔۔۔
تم مجھے صرف یہ بتاؤ تم مجھ سے محبت کرتی ہو یا نہیں ۔۔۔۔۔۔
ہاں کرتی ہوں
ریحان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی ۔۔۔۔
تو پھر ڈر کیسا۔۔۔۔۔
لیکن
لیکن ویکن کچھ نہیں آج بابا آئیں گے اور میں انکو صاف بول دوں گا اور جلد ماما تمہارے گھر رشتہ لے کر آئیں گی۔۔۔۔

Comments
Post a Comment