جنون تیرے عشق کاepi24
"Junoon tery Ishaq ka" Urdu novel written by Abeeha Malik....
#AbeehaMalikBoldRomanticNovel
Episode 24
عریشہ کیا ہم کافی پر چل سکتے
علی پوچھنے لگا۔۔
نہیں میں نہیں جا سکتی مجھے گھر جانا۔۔۔۔
میں کافی کے بعد آپ کو چھوڑ دوں گا گھر ۔۔۔۔
نہیں مجھے نہیں جانا پلیز۔۔۔۔
اوکے جیسے آپ کی مرضی جیسے آپ خوش علی بولا۔۔۔
ویسے عریشہ آپکی فیملی میں کون ۔۔۔۔
علی پوچھنے لگا۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ عریشہ کچھ بولتی عریشہ کا فون بجا۔۔۔۔
ہاں نمبرہ بولو۔۔۔۔
عریشہ کو صرف نمبرہ کے رونے ہی کی آواز آ رہی تھی ۔۔۔۔
بتاؤ نا نمبرہ کیا ہوا ہے کیوں رو رہی ہو تم۔۔۔۔
عریشہ بابا۔۔۔۔
کیا ہوا بابا کو بتاؤ مجھے میرا دل بہت گھبرا رہا۔۔۔۔۔
عریشہ بابا ہمیں چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلے گئے اب کبھی واپس نہیں آئیں گے۔۔۔۔
نمبرہ کی اس بات پر عریشہ کے ہاتھ سے فون گرا۔۔۔۔
عریشہ بری طرح رونے لگی۔۔۔۔
عریشہ آپکو کیا ہوا ہے آپ کیوں رو رہی ہو اتنی بری طرح۔۔۔۔۔
علی پوچھنے لگا۔۔۔۔
عریشہ کے منہ سے بس ایک ہی بات نکل رہی تھی میرے بابا۔۔۔۔
علی بھی عریشہ کی تکلیف دیکھ کر سب سمجھ چکا تھا ۔۔۔۔۔
اسکو دلاسا دینےکے سوا اور کر بھی کیا سکتا تھا ۔۔۔۔
💕💕💕
اتنے میں شاہ زیب عریشہ کو لینے پہنچ گیا کیونکہ وہ جانتا تھا اسکے بابا کے جانے کے بعد اسکا کیا حال ہو گا۔۔۔۔۔
عریشہ اپنے ٹانگوں میں سر دیے بس رونے میں مصروف تھی اور علی اسکے پاس بس بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔
عریشہ شاہ زیب نے اسے بلایا۔۔۔۔۔
شاہ زیب کی آواز اپنے کانوں میں سن کر عریشہ نے سر اٹھا کر دیکھا اور بھاگ کر شاہ زیب کے گلے لگ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔۔
عریشہ کا اس طرح رونا شاہ زیب کی برداشت سے باہر تھا اور سمجھ نہیں پا رہا تھا اسکو تسلی کن الفاظ سے دے۔۔۔۔
عریشہ کو اس طرح شاہ زیب کے گلے لگ کر روتے ہوئے دیکھ کر علی کو بہت برا لگ رہا تھا اور سوچ میں تھا کہ یہ لڑکا کون ہے ۔۔۔۔۔
شاہ زیب مجھے بابا کے پاس جانا ہے عریشہ کہنے لگی
ہممم چلو۔۔۔۔
شاہ زیب عریشہ کو لے کر خالد صاحب کے گھر پہنچا۔۔۔۔
خالد صاحب کے گھر میں ہر طرف لوگ ہی لوگ تھے گھر میں رونے اور چیخنے کی آوازیں
عریشہ تو جیسے اپنے گھر کی دہلیز کے ساتھ چپک کر رہ گئی ہو اسکی ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی کہ اندر جائے ۔۔۔۔
شاہ زیب عریشہ کو اندر لے کر گیا جہاں عریشہ کی نظر کفن میں لپٹے اپنے باپ پر پڑی۔۔۔۔۔ عریشہ کا ضبط جواب دے گیا اور چیخنے چلانے لگی نمبرہ کا بھی رو رو کر برا حال تھا ۔۔۔۔
ماریہ بیگم اور ریحان بھی وہاں موجود تھے لیکن فرید صاحب کا دل آج بھی نرم نہ ہوا۔۔۔۔
نمبرہ نے آگے بڑھ کر عریشہ کو گلے لگا لیا اور دونوں بہنیں بہت روئی۔۔۔۔۔
نمبرہ عریشہ کو اپنے بابا کے پاس لے گئی ۔۔۔۔
شائستہ بیگم بھی رو رو کر پاگل ہو رہی تھی ۔۔۔۔
عریشہ کی رو رو کر بری حالت ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔
ماریہ بیگم اور شاہ زیب نے بہت کوشش کی کہ اسے کسی طرح صبر آ جائے۔۔۔۔
خالد صاحب کی آخری رسومات بھی ادا کر دی گئی ۔۔۔۔
عریشہ بس حال کے دروازے کے ساتھ سر لگائے بیٹھی تھی ۔۔۔۔
عریشہ گھر چلیں شاہ زیب نے بولا۔۔۔۔
عریشہ نے شاہ زیب کی طرف نم آنکھوں سے دیکھا کیونکہ وہ جانتی تھی یہاں اب اسکے روکنے کی کوئی وجہ نہیں رہی اور نہ اب اسے کوئی روکے گا۔۔۔۔
شاہ زیب کی یہ بات شائستہ بیگم نے سن لی اور انکے پاس آئیں یہ کہیں نہیں جائے گی یہیں رہے گی ۔۔۔۔
عریشہ انکی اس بات پر حیران ہوئی۔۔۔۔
تمہارا حیران ہونا بنتا عریشہ میں نے کبھی تمہارے ساتھ اچھا نہیں کیا لیکن آج مجھے شدت کے ساتھ احساس ہو رہا ہے مجھے معاف کر دو شائستہ بیگم نے عریشہ کے سامنے ہاتھ جوڑ لیے۔۔۔۔
عریشہ نے فوراً انکے ہاتھ پکڑ لیے یہ آپ کیا کر رہی ہیں آپ ماں ہیں میری اور مائیں بیٹیوں سے معافی نہیں مانگتی۔۔۔۔۔
دونوں ماں بیٹی ایک دوسرے کے گلے لگیں۔۔۔۔۔
نمبرہ اور شاہ زیب یہ سب دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔۔۔۔
شاہ زیب بیٹا تم بھی مجھے معاف کردو۔۔۔۔۔
نہیں آنٹی اسکی کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔۔
تم عریشہ کو لے کر نہ جاؤ ابھی ۔۔۔۔
میں نہیں لے کر جاتا اسے آپ جب تک چاہیں اسے رکھیں۔۔۔۔
شاہ زیب کہہ کر چلا گیا۔۔۔
نمبرہ بھی اپنی ماں اور بہن کے گلے لگی۔۔۔۔
💕💕💕
چلو عریشہ میں کھانا لاتی ہوں کچھ کھا لو بیٹا۔۔۔۔
نہیں ماما مجھے بھوک نہیں ہے ۔۔۔۔
ارے ایسے کیسے بھوک نہیں ہے اس حالت میں بھوکا رہنا اچھا نہیں میں کھانا لا رہی ہوں اور کوئی بہانا نہیں شائستہ بیگم بول کر کچن میں چلی گئی ۔۔۔۔
فرید اب تو خالد بھائی اس دنیا سے چلے گئے اب تو انکے لیے نفرت ختم کر دیں ۔۔۔۔۔
آخر کب تک اپنی انا میں رہیں گے۔۔۔۔۔
آپ کس کو بول رہی ہیں ماما اس انسان کو جو اپنے مطلب کے لیے اپنے بیٹے کی خوشیاں قربان کر چکا ہے اور انکو اپنی انا اور اکڑ زیادہ عزیز ۔۔۔
شاہ زیب بولا۔۔۔۔
شاہ زیب تم یہ اپنے بابا سے کیسے بات کر رہے ہو ماما میں بلکل ٹھیک کہہ رہا ہوں یہ اپنی انا کی خاطر ہماری قربانی دیں گے لیکن یاد رکھیے گا بابا ایک دن بلکل اکیلے ہو جائیں گے۔۔۔۔۔
شاپ زیب کہہ کر چلا گیا۔۔۔۔۔
💕💕💕
عائشہ بیٹا تم اب اپنے گھر جاؤ وہ ٹھیک ہو جائے گا آہستہ آہستہ ۔۔۔۔
شوکت صاحب کہنے لگے۔۔۔۔
بابا وہ مجھے پیار ہی نہیں کرتا۔۔۔۔
کرنے لگے گا اسے کچھ وقت تو دو۔۔۔ اور اسکا دل جیتنے کی کوشش کرو۔۔۔۔
ہمممم عائشہ بھی سوچ میں پڑی کے شاہ زیب کا دل جیتنا چاہیے مجھے ایسے چلانے سے تو وہ اور ناراض ہو گا۔۔۔۔۔
عائشہ واپس گھر چلی گئی اسے لاؤنچ میں شاہ زیب بیٹھا موبائل یوز کرتا نظر آیا۔۔۔۔۔
شاہ زیب عائشہ نے پکارا۔۔۔۔
شاہ زیب نے اوپر دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اور واپس نظریں گھما لیں۔۔۔۔
عائشہ نے شاہ زیب کی اس حرکت پر لمبا سانس لیا اور شاہ زیب کے پاس بیٹھ گئی ۔۔۔۔
شاہ زیب آپ کیوں مجھ سے اتنا دور رہہتے ہیں میں آپ سے کتنی محبت کرتی ہوں ۔۔۔۔۔
میں تم سے نہیں کرتا شاہ زیب کہہ کر اٹھنے لگا تو عائشہ نے ہاتھ پکڑ لیا تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔
میں ایسا کر سکتا ہوں شاہ زیب نے زور سے ہاتھ چھڑایا۔۔۔۔
لیکن کیوں عائشہ چلائی۔۔۔
کیونکہ میں کسی اور سے پیار کرتا ہوں وہ میرے دل و دماغ میں ہے ۔۔۔۔۔
شاہ زیب کی اس بات پر عائشہ پاگل ہو گئی کون ہے وہ چڑہیل میں جان سے مار دوں گی اسے تم صرف میرے ہو شاہ زیب بغیر کچھ کہے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔۔

Comments
Post a Comment