Episode 18جنون تیرے عشق کا
"Junoon tery ishaq ka" urdu Novel written by Abeeha Malik
Episode 18جنون تیرے عشق کا
#love story
#AbeehaMalikBoldRomanticNovel
اٹھارویں قسط۔۔۔۔
ایکسکیوز می۔۔۔
علی نے عریشہ کو رہ چلتے دیکھ کر بولا۔۔۔۔
جی ۔۔۔۔ عریشہ نے مڑ کر کہا۔۔۔
آپ کہاں جا رہی ہیں اکیلے۔۔۔۔
میں اپنے گھر جا رہی ہوں ,۔۔۔۔۔
آئیں میں چھوڑ دیتا ہوں آپ کو۔۔۔۔
نہیں بہت شکریہ میں چلی جاؤں گی ۔۔۔۔۔ عریشہ اتنا کہہ کر آگے چل پڑی۔۔۔
آرے بات تو سنیں آپ اکیلی نہ جائیں میں چھوڑ دیتا ہوں آپ کو پلیز سمجھیں بے شک کل سے گھر سے کسی کے ساتھ چلی جائیے گا لیکن ابھی اکیلی نہ جائیں ۔۔۔
ہمممم عریشہ اتنا بولی اور گاڑی میں بیٹھ گئی ۔۔۔۔
💕💕💕
آپ کا گھر اس اریا میں ہے ۔۔۔۔
جی میں یہاں ہی رہتی ہوں ۔۔۔۔
ارے واہ فر تو ہم پڑوسی ہی ہوئے۔۔۔۔
اس گلی میں آپ کا گھر ہے نا علی اشارہ کرتے ہوئے بولا۔۔۔
ہاں جی اسی گلی میں میرا گھر ہے ۔۔۔۔
تو اسکی پچھلی گلی میں میرا گھر ہے ۔۔۔۔ تو ہوئے نا ہم پڑوسی۔۔۔۔
عریشہ بس مسکرا دی۔۔۔۔
مجھے یہاں ہی اتار دیں اور بہت شکریہ آپ کا اور پلیز آئندہ یہ تکلف کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔
علی بس عریشہ کو جاتا دیکھ کر مسکراتا رہا۔۔۔۔
💕💕💕
شاہ زیب چلو نا ہم کہیں لنچ پر جائیں دن کے 3 بج رہے اور میں نے ابھی تک کچھ نہیں کھایا۔۔۔۔ عائشہ بولی۔۔۔
عائشہ تم چلی جاؤ پلیز مجھے بھوک بھی نہیں اور کام بھی بہت ہے ۔۔۔
نہیں شاہ زیب تمہیں میرے ساتھ چلنا ہی ہو گا ۔۔۔۔
اوکے چلو شاہ زیب نے ضبط کے ساتھ آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
💕💕💕
شاہ زیب تم اتنا روڈ بیہیو کیوں کرتے ہو میرے ساتھ ۔۔۔۔ عائشہ نے کھانا آرڈر کرنے کے بعد کہا۔۔۔۔
ایسا کچھ نہیں ہے میں بس اپنے کام کو زیادہ اہمیت دیتا ہوں ۔۔۔۔
اس پہلے کہ عائشہ کچھ بولتی شاہ زیب کا فون بجا۔۔۔۔
ایکسکیوز می شاہ زیب کہہ کر کال اٹنڈ کرنے لگا۔۔۔
کہاں ہو شاہ زیب فرید صاحب نے پوچھا۔۔۔
بابا عائشہ کو لنچ پر لایا تھا ۔۔۔۔
گڈ ۔۔۔۔۔ ایسے ہی اس کے قریب رہو۔۔۔۔
شاہ زیب کچھ نہ بولا۔۔۔
اور ہاں شاہ زیب اپنی اس بیوی کو سمجھا دینا کہ دنیا کہ سامنے ڈھنڈورا نہ پیٹے کہ تم اس کے شوہر ہو ۔۔۔۔
جی بابا سمجھا دوں گا اسے۔۔۔۔
ہمممم ٹھیک ہے تم اب عائشہ کو ٹائم دو۔۔۔۔
💕💕💕
کس کی کال تھى شاہ زیب ۔۔۔
بابا کی کال تھى ۔۔۔۔
عائشہ اگر کھانا ہو گیا ہو تو مجھے کچھ کام ہے تو مجھے جانا ہے کائنڈلی تم گھر خود چلی جانا پلیز۔۔۔
اوکے کوئی مسلہ نہیں میں چلی جاؤں گی ۔۔۔۔
💕💕💕
ڈور بل بجنے پر عریشہ نے دروازہ کھولا۔۔۔۔
شاہ زیب کو دیکھ کر آنکھیں جھکا کر اندر آ گئی ۔۔۔۔
کھانا لگا دوں آپ کے لیے عریشہ نے آنکھیں جھکائے ہی پوچھا۔۔۔۔
نہیں میں کھا کر آیا ۔۔۔۔
اوکے۔۔۔۔
عریشہ کہہ کر روم میں جانے لگی تو شاہ زیب نے ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔
یہاں آؤ ۔۔۔۔ میری طرف دیکھو عریشہ
عریشہ نے آنکھیں اٹھا کر دیکھا۔۔۔۔
رو رو کر آنکھیں سرخ ہو چکی تھى ۔۔۔۔
تم رو رہی تھی ۔۔۔۔
نہیں بس ایسے ہی عریشہ دوبارہ جانے لگی لیکن شاہ زیب نے نہ جانے دیا۔۔۔۔
عریشہ میں بہت مجبور ہوں یار میں دل سے نہیں کر رہا یہ شادی ۔۔۔۔
میں وعدہ کرتا ہوں تم سے میں صرف تمہارا ہوں۔۔۔
عریشہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔۔
شاہ زیب نے اسے گلے لگایا۔۔۔۔
شاہ زیب میں آپ کو کسی اور کے ساتھ نہیں بانٹ سکتی ۔۔۔۔۔
شاہ زیب ہمیشہ سے تمہارا تھا ہے اور رہے گا۔۔۔۔
میں صرف اس سے شادی کر رہا ہوں کیونکہ بابا کی ضد ہے ۔۔۔۔
مجھے چھوڑیں گے تو نہیں نا ۔۔۔۔
تمہیں چھوڑ دوں تو خود نہ مر جاؤں یار۔۔۔۔۔
کھانا کھایا تم نے شاہ زیب نے پوچھا۔۔۔۔
عریشہ نے نہ میں سر ہلایا۔۔۔۔
شاہ زیب نے کھانا گرم کیا اور اپنے ہاتھوں سے اسے کھلایا۔۔۔۔۔
💕💕💕
کبھی نہیں چاہا تھا میں نے کہ تمہاری آنکھوں میں آنسو آئیں ۔۔۔۔۔
لیکن آج ان آنسوؤں کی وجہ میں خود بن گیا ہوں ۔۔۔
میں صرف تمہارا ہوں میری جان صرف تمہارا شاہ زیب عریشہ کو سوئے ہوئے دیکھ کر کہنے لگا۔۔۔۔۔

Comments
Post a Comment