جنون تیرے عشق کاlast episode


 "Junoon tery Ishaq ka" Urdu novel written by Abeeha Malik....


آخری قسط

#AbeehaMalikBoldRomanticNovel


 کیا اس نے مجھے دھوکہ دیا ۔۔۔۔


نہیں علی وہ تجھے دھوکہ کیوں دے گی کونسا اس نے تیرے ساتھ پیار کے وعدے کیے تھے وہ تو تجھ سے ہمیشہ دور ہی رہتی تھی ۔۔


لیکن میرے دل نے تو صرف اسے ہی چاہا تھا علی وہاں بیٹھے بیٹھے سوچ رہا تھا رو رو کر آنکھیں سرخ کر چکا تھا ۔۔۔۔


💕💕💕


میری جان کیوں رو رہی ہو عریشہ ۔۔۔۔


شاہ زیب یہ سب ۔۔۔۔


اچھا ریلیکس کوئی بات نہیں آج یا کل سب کو پتا چلنا ہی تھا ۔۔۔۔


لیکن شاہ زیب مجھے لگتا ہے اس سب میں انجانے میں ہی سہی لیکن ایک معصوم دل توڑ دیا ہے میں نے ۔۔۔


عریشہ تم نے جان کر نہیں کیا اور اسے بھی نہیں پتا تھا کہ تم شادی شدہ ہو اور مجھے امید ہے جب اسے پتا چلا ہو گا تو وہ سمجھے گا ۔۔۔۔


ہممم عریشہ بس اتنا ہی بولی۔۔۔


اچھا  اب ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اور آپ کا چیک اپ کرواتے ہیں ۔۔۔۔


شاہ زیب عریشہ کو ڈاکٹر کے پاس لے گیا ۔۔۔۔


مسٹر شاہ زیب آپ عریشہ کا دیحان اچھے سے رکھیں انکی ڈائٹ کا اور کوشش کریں کہ انکو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔۔۔۔


آپ فکر نہ کریں ڈاکٹر میں ہمیشہ خوش رکھوں گا اسے۔۔۔۔


شاہ زیب اب ہم کہاں جا رہے ہیں ۔۔۔۔


ہم آئس کریم کھانے جا  رہے ہیں جانم۔۔۔۔


💕💕💕


عائشہ بیٹا کیا ہوا۔۔۔


شوکت صاحب اپنی روتی ہوئی بیٹی کو دیکھ کر تڑپ کر بولے۔۔۔۔


بابا شاہ زیب پہلے سے شادی شدہ تھا انہوں نے ہم سے چھپایا ۔۔۔


اور وہ اس لڑکی سے پیار کرتا ہے مجھ سے نہیں ۔۔۔۔


اس لڑکی کی خاطر اس نے مجھے طلاق دے دی۔۔۔۔


عائشہ روتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔


یہ کیا کہہ رہی ہو بیٹی۔۔۔


بابا میں سچ کہہ رہی ہوں ۔۔۔۔


وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں کیوں میری بیٹی کی زندگی خراب کی۔۔۔۔۔


💕💕💕


فرید صاحب کہاں ہیں آپ۔۔۔


ارے شوکت صاحب آپ یہاں آئیے بیٹھیے۔۔۔۔


میں یہاں بیٹھنے نہیں آیا میری بیٹی کی زندگی برباد کر دی آپ نے ۔۔۔۔


کیا کہہ رہے ہو یہ شوکت۔۔۔


میں بلکل ٹھیک کہہ رہا ہوں جب آپ کو پتا تھا کہ آپ کا بیٹا شادی شدہ ہے تو پھر میری بیٹی کی زندگی برباد کیوں کی۔۔۔۔


وہ شادی بس ایک نادانی ہے میرے بیٹے کی اس گھر کی بہو تو عائشہ ہی ہے ۔۔۔۔


نادانی شوکت صاحب طنزن مسکرائے۔۔۔۔


آپ کا بیٹا میری بیٹی کو طلاق دے چکا ہے فرید صاحب ۔۔۔۔


جب آپکا بیٹا راضی نہیں تھا تو کیوں کی شادی آپ نے ۔۔۔۔


ایسا نہیں ہو سکتا شوکت ضرور تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔۔۔


جی نہیں مجھے کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی۔۔۔


اگر آپ اپنی انا سے آگے بڑھ کر فیصلہ کر لیتے تو اچھا تھا نا میری بیٹی برباد ہوتی اور نا آپ کا بیٹا دو کشتیوں کا مسافر ہوتا۔۔۔۔۔شوکت صاحب کہہ کر چلے گئے ۔۔۔۔


💕💕💕


دیکھ لیا آپ نے اپنی انا کا نتیجہ یہ ہی چاہتے تھے آپ ہمیشہ دوسروں کو نیچا دیکھا کر آپ کو خوشی ملتی ہے ۔۔۔۔


آپ کے لیے اپنی اولاد کی خوشی کوئی معنی نہیں رکھتی۔۔۔


ماریہ بیگم بولتی گئیں۔۔۔۔


ماما چھوڑیں۔۔۔


نہیں ریحان آج میں چپ نہیں رہوں گی ساری زندگی اس آدمی کے سامنے چپ کر کے گزاری اس آس میں کہ کبھی تو بدلے گا۔۔۔۔۔


لیکن نہیں ہمیشہ یہ رعب جھاڑتا رہا۔۔۔۔


یہ نا مانا تو طلاق دے دوں گا۔۔۔۔


ارے دیتا ہے تو دے دے طلاق ۔۔۔۔نہیں ڈرتی اب میں اس آدمی سے اپنے ہی بچوں کی خوشیوں کا دشمن بنا ہوا ہے ۔۔۔کیا قصور تھا میری معصوم بھانجی کا۔۔۔۔کیا کمی ہے اس میں جو وہاس گھر کی بہو نہیں بن سکتی ۔۔۔۔


فرید صاحب بس ماریہ بیگم کو دیکھتے جا رہے تھے ۔۔۔۔


کبھی اپنے بیٹے کو غور سے دیکھا کہ اس کا سکھ اور چین چھین لیا تھا آپ نے ۔۔۔۔


آپ کبھی اسکی خوشیوں میں شریک ہوئے ۔۔۔۔


ارے آپ کو اس بات کی بھی خوشی نہیں ہو گی کہ آپ دادا بننے والے۔۔۔۔ کیونکہ وہ بچا جو عریشہ کا ہو گا۔۔۔۔


ماریہ بیگم رو رو کر حلقان ہو گئی تھی ۔۔۔۔


ماما آپ میرے ساتھ روم میں چلیں اور ان کو بولنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔۔۔۔۔۔


ریحان ماریہ بیگم کو روم میں لے گیا۔۔۔۔


💕💕💕


بات تو سہی کی تم نے خود غرض ہو گیا ہوں میں ۔۔۔۔


اپنے بچوں کی خوشیوں کا دشمن بن گیا ہوں میں ۔۔۔۔


بلا وجہ کی نفرت اور انا پال لی میں نے ۔۔۔۔


اور اسی انا کی وجہ سے میرے بیٹے نے اپنی اولاد کی خبر بھی نہیں دی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ میں اپنی انا سے آگے کچھ نہیں سمجھتا۔۔۔۔


فرید صاحب شرمندہ ہو کر خود سے بتیں کرنے لگے۔۔۔۔۔


فرید صاحب نے کچھ سوچ کر فون نکالا۔۔۔۔


شاہ زیب ۔۔۔


جی بابا بولیں ۔۔۔


گھر آؤ۔۔۔ اور عریشہ کو لے کر آنا۔۔۔۔


جی بابا۔۔۔۔


عریشہ بابا بلا رہے ہیں اور کہا ہے تمہیں بھی لے کر آؤں۔۔۔۔


عریشہ ڈر گئی۔۔۔۔


ڈرو نہیں جانم کچھ نہیں ہو گا۔۔۔۔


بابا آپ نے بلایا فرید صاحب لاؤنچ میں بیٹھے تھے ۔۔۔


شاہ زیب میں ایک بہت خودغرض انسان ہوں جس نے اپنی انا کے لیے بیٹوں کی خوشیوں کو قربان کر دیا۔۔۔۔


ایسا کیوں بول رہے ہیں بابا۔۔۔۔


میں نے بہت نا انصافی کی تمہارے ساتھ مجھے معاف کر دو بیٹا فرید صاحب نے شاہ زیب کے سامنے ہاتھ جوڑے۔۔۔۔


نہیں بابا باپ بیٹوں سے معافی تھؤڑی مانگتے۔۔۔۔


تم بھی مجھے معاف کر دو بیٹی۔۔۔۔


نہیں انکل بڑے چھوٹوں سے معافی نہیں مانگتے۔۔۔۔


اب تم دونوں یہاں ہی رہو گے اور بیٹا تم اس گھر کر بہو ہو۔۔۔۔


اتنی بڑی بات چھپائی تم نے شاہ زیب ۔۔۔


کیا بابا۔۔۔


یہی کہ میں دادا بننے والا ہوں۔۔۔۔


وہ بابا میں نے سوچا۔۔۔۔


تم نے سوچا مجھے اچھا نہیں لگے گا۔۔۔۔


شاہ زیب نے سر جھکا لیا۔۔۔۔


شاہ زیب تم ماریہ بیگم اور ریحان بھی آ گئے ۔۔۔۔۔


اب میرا بیٹا اور بہو یہاں ہی رہیں گے فرید صاحب کی بات پر جہاں سب کو حیرت ہوئی وہاں خوشی بھی ۔۔۔۔۔


کافی دن گزر گئے ۔۔۔۔


نمبرہ اور ریحان کا رشتہ بھی پکا ہو گیا۔۔۔۔


شاہ زیب میں سوچ رہا ہوں کہ ریحان اور نمبرہ کی شادی کر دی جائے اور تمہارا اور عریشہ کا بھی فنکشن کر دیا جائے ۔۔۔۔


میں بھی یہی سوچ رہی تھی اب جلدی سے اس گھر میں خوشیاں آئیں ماریہ بیگم بولیں۔۔۔۔


اور پھر وہ دن آگیا۔۔۔۔۔


نمبرہ سرخ لباس میں بیٹھی ریحان کا انتظار کر رہی تھی جب وہ کمرے میں آیا۔۔۔۔


بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔۔


کیوں پہلے نہیں لگتی تھی کیا۔۔۔


پہلے بھی لگتی تھی لیکن میری بیوی بن کر اور بھی خوبصورت ہو گئی ہو۔۔۔۔


نمبرہ مسکرا دی۔۔۔


ہائے کتنا انتظار کیا میں نے اس دن کا ۔۔۔ ریحان بولا۔۔۔


کیوں نمبرہ حیرت سے بولی۔۔۔۔


اگر ہماری بھی پہلے ہو جاتی تو آج ہمارا بھی بےبی آنے والا ہوتا عریشہ اور شاہ زیب کی طرح۔۔۔۔


ریحان کی اس بات پر نمبرہ شرم سے پانی  پانی ہو گئی ۔۔۔۔


ریحان نے نمبرہ کو رنگ پہنائی اور اس کے ہونٹوں پر ایک کس کی۔۔۔۔


اور پھر اس کے وجود کو بھاری زیورات سے آزاد کیا آہستہ آہستہ وہ اس کے وجود پر قابض ہو گیا۔۔۔۔


شاہ زیب اب مجھے سونے دیں ہٹیں ادھر سے ۔۔۔۔


سونے کیوں دوں یار آج تو ہماری فرسٹ نائٹ ہے نا۔۔۔۔


اففف شاہ زیب ابھی آپ کی فرسٹ نائٹ رہتی عریشہ اپنے پیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔


عریشہ کو خود ہی اپنی اس بات پر شرمندگی ہوئی۔۔۔


شاہ زیب نے عریشہ کے ہونٹوں کو نرمی سے چوما۔۔۔۔


اور اس کو چینج کروا کر سلا دیا۔۔۔۔


سو جاؤ بے بی کی ماما ایک بار بےبی کو آنے دو فر پیار کریں گے ۔۔۔۔


شاہ زیب کی بات پر عریشہ نے اس کے سینے میں منہ دے لیا۔۔۔۔


دو سال بعد 


آیان بیٹا ماما کو تنگ نہیں کرو کھا لو کھانا۔۔۔


کیوں ڈانٹ رہی ہو میرے بیٹے کو ۔۔۔


آپ کا شہزادہ کھانا نہیں کھا رہا۔۔۔


ماما کو تنگ نہیں کرو شاہ زیب بولا۔۔۔


ماما سوری۔۔۔۔ آیان نے اپنے ننھے ہاتھ سے کان کو پکڑ کر کہا تو عریشہ اور شاہ زیب دونوں کو اس پر پیار آیا۔۔۔۔


نمبرہ اور ریحان کو بھی اللہ نے ایک بیٹی دی جس کا نام جنت رکھا ۔۔۔


اور سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔۔۔۔


The end

Comments

Popular posts from this blog

جنون تیرے عشق کاepi13

جنون تیرے عشق کاepi 11

زندگی-کا-عجب موڑ episode 1 and 2