زندگی-کا-عجب موڑEpisode 25 26 and 27
"Zindagi ka ajub Mor" urdu Novel written by Abeeha Malik...
Episode 25 ' 26 and27
#Romantic-Novel
#زندگی-کا-عجب موڑ
#AbeehaMalikBoldRomanticNovel
پلیز ایان ایک بار مجھے نعلین سے بات کرنے دے۔۔۔۔
جو تو نے کرنا تھا کر چکا اب نکل ہماری لائف سے ۔۔۔۔
پلیز یار تو بےشک مجھے مار لے لیکن میں معافی مانگے بغیر نہیں جاؤں گا۔۔۔۔
کیوں اب تجھے معافی کا خیال کیوں آیا۔۔۔
میری بہن کی زندگی کا سوال ہے ۔۔۔
اوووو تو تیری بہن کے ساتھ ہوا تو تکلیف ہوئی۔۔۔۔
دوسری لڑکیاں کسی کی عزت نہیں لگتی تجھے ۔۔۔۔
تیرے کیے کی سزا آج مناہل بھکت رہی ہے کیونکہ اسکی زندگی میں بھی ایک حارث آ ہے ۔۔۔۔
میں بہت شرمندہ ہوں۔۔۔۔ حارث کی آنکھیں بھیگنے لگی۔۔۔۔
میں نعلین کو اور اپنے بچے کو اپنانے کے لیے تیار ہوں۔۔۔۔
یہ صرف میرا بچہ ہے تم کچھ نہیں لگتے اس کے۔۔۔۔ نعلین نے فوراً جواب دیا۔۔۔۔
نعلین تم گاڑی میں بیٹھو طبیعت خراب ہو جائے گی ۔۔۔۔ ایان بولنے لگا۔۔۔
ہممم ایان گھر چلیں مجھے نہیں دیکھنا اس انسان کو۔۔۔
حارث کی مزید کوئی بات سنے بغیر دونوں گھر کی طرف چل دیے۔۔۔
🥀🥀🥀
کیا سوچ رہی ہو نعلین ۔۔۔۔
ایان پوچھنے لگا۔۔۔
کچھ نہیں ایان۔۔۔
تم حارث کو معاف کر سکتی ہو کیا ۔۔۔۔
کبھی بھی نہیں ۔۔۔۔
اسنے میری زندگی برباد کی ہے ۔۔۔۔
لیکن میں نے یہ کبھی نہیں چاہا تھا کہ اس کی بہن کے ساتھ ایسا ہو۔۔۔
تم نے نہیں چاہا تھا لیکن اس رب نے تو سب دیکھا تھا ایان نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔۔
🥀🥀🥀
ارسلان دیکھو میں تم سے اپنی بہن کی عزت کی بھیک مانگنے آیا ہوں اس سے شادی کر لو۔۔۔۔
حارث ارسلان کے سامنے بےبس کھڑا تھا ۔۔۔۔
میں نہیں کر رہا اس سے شادی اسے بولیں وہ ابورشن کروا دے۔۔۔
وہ ایسا کرے گی تو میری بہن کی جان جائے گی تم تو اس سے محبت کرتے تھے نا۔۔۔۔
محبت کا لفظ تمہارے منہ سے اچھا نہیں لگتا حارث ۔۔۔۔
سوچو ایسے کون سے گناہ کیے ہوں گے تم نے جس کی سزا آج مناہل کو مل رہی ۔۔۔
میں جانتا ہوں میں بہت برا ہوں میری بہن بےقصور ہے ۔۔۔۔
تو میری بہن کا کیا قصور تھا ارسلان اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا۔۔۔
تمہاری بہن ۔۔۔۔ حارث حیرانگی سے بولا۔۔۔۔
یاد ہے وہ لڑکی حارث جو تمہارے پاس جاب کے سلسلے میں آئی تھى اور تم نے اسے محبت کے جھوٹ میں پھسایا۔۔۔۔ اور تمہاری وجہ سے میری بہن نے سوسائیڈ کیا۔۔۔۔
عائشہ حارث بے یقینی سے بولا۔۔۔
ہاں عائشہ میری بہن تھى ۔۔۔۔ تم نے پتا نہیں کتنی لڑکیوں کو برباد کیا ہو گا۔۔۔۔
میں نے سوچ لیا تھا میں تم سے بدلہ لوں گا اور میں نے لے لیا۔۔۔۔
#Romantic-Novel
#زندگی-کا-عجب موڑ
#Abeeha
دیکھو ارسلان میری بہن کا تو کوئی قصور نہیں ۔۔۔۔
تو میری بہن کا قصور بتا دو ۔۔۔۔
تمہاری بہن تو خود میرے پیار میں پڑ گئی۔۔۔۔
تو سمجھ لو تمہاری بہن کو بھی پیار کی سزا ملی۔۔۔۔
نہیں ایسا نہیں کرو۔۔۔۔ حارث رونے لگا۔۔۔۔
🥀🥀🥀
نعلین کیا سوچ رہی ہو ۔۔۔ایان بولا
نہیں کچھ نہیں ایان۔۔۔
حارث کے بارے میں سوچ رہی ہو کیا ۔۔۔۔
نہیں لیکن مناہل کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا ۔۔۔۔
ہمممم ۔۔۔۔ وہ حارث کے کیے کی سزا بھکت رہی ہے ۔۔۔۔
🥀🥀🥀
بھائی کیا ہوا مناہل حارث کو واپس آتے دیکھ کر بولی۔۔۔۔
مان گیا ارسلان کیا۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔ حارث بس اتنا ہی بولا
مناہل رونے لگی۔۔۔
تم فکر نہ کرو میں منا لوں گا
#Romantic-Novel
#زندگی-کا-عجب موڑ
#Abeeha
بھائی میں نے بہت بڑی غلطی کر دی
نہیں تم نے کچھ نہیں کیا ساری غلطی میری ہے حارث بولا۔
بھائی آپ کی غلطی کیسے ہے گناہ میں نے کیا ہے مناہل بولی
تم سے گناہ ہوا نہیں ہے تمہیں تو میرے کیے ہوئےگناہ کی سزا ملی۔
بھائی آپ نے تو کبھی کسی کا برا نہیں کیا
ہر بہن کو یہ ہی لگتا ہے کہ اس کا بھائی بےقصور ہے معصوم ہے ۔
بھائی یہ کیا کہہ رہے ہیں.
میں اپنے گناہ تمہیں کیسے بتاؤں بتاتے ہوئے بھی شرم آتی ہے ۔
لیکن بتانا تو پڑے گا نا
کیا بول رہے آپ مناہل بولی
میں نے نعلین کے ساتھ بہت برا کیا میں نے عائشہ کے ساتھ بہت برا کیا اور کتنی ہی اور لڑکیوں کے ساتھ
اور۔۔۔
اور کیا بھائی ۔۔۔
اور نعلین میرے بچے کی ماں بھی بننے والی تھى اور اسے میں نے چھوڑ دیا ۔
بھائی آپ ایسال کیسے کر سکتے ہیں مناہل روبے لگی۔
میں بہت برا ہوں مناہل تمہاری سوچ سے بھی زیادہ
🥀🥀🥀
ارسلان بیٹا تمہیں نہیں لگتا تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا
آپ کیا چاہتی موم میں اپنی بہن کے گناہ گار کو ایسے چھوڑ دیتا
میں یہ نہیں کہہ رہی لیکن اسکی بہن تو معصوم ہے
تو امی میری بہن بھی تو تھى
اگر تم بھی اس جیسے ہو جاؤ گے ارسلان تو تم میں اور حارث میں کیا فرق رہ جائے گا اور وہ بچہ بھی تو تمہارا ہے اس خاندان کا خون ہے ۔
موم پلیز ۔۔۔ ارسلان یہ کہہ کر روم میں چلا گیا
🥀🥀🥀
حارث بیٹا تم یہاں۔۔ ایان کی ماں حارث کو اپنے گھر میں دیکھ کر بولی
میں جانتی ہوں بیٹا ایان نے تمہارے ساتھ اچھا نہیں کیا
اچھا تو میں نے نہیں کیا انٹی ایان اور نعلین کے ساتھ
کیا مطلب۔۔۔
انٹی میں نعلین کو اپنانا چاہتا یوں اور اپنے بچے کو بھی ۔
تمہارا بچہ ایان کی ماں حیرت سے بولی
جی انٹی میرا بچہ ۔۔۔
لیکن ایان تو کہہ رہا تھا کہ یہ بچہ اسکا۔۔۔۔
وہ جھوٹ بول رہا ہے صرف میرا عکس آپ کے سامنے اچھا رکھنے کے لئے
توں یہاں بھی آ گیا حارث کے کانوں میں ایان کی آواز پڑی جو نعلین کو ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا تھا
تجھے کہا ہے نا اپنے اس گھر سے اور نعلین سے. دور رہے
میں نعلین کو اپنانا چاہتا یوں توں بول تو ابھی شافی کرنے کو تیار ہوں
اسے ایک بار تیرے حوالے کر کے دیکھ چکا ہوں بار بار ایک غلطی نہیں کروں گا
اور رہی بات نعلین کو اور اس بچے کو اپنانے کی تو سن نعلین کو اور اس بچے کو میں اپنا نام دوں گا میں تیرا سایہ بھی نہیں پڑنے دوں گا اپنے بچے پر۔۔

Comments
Post a Comment